ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں تازہ مظاہروں کے دوران مظاہرین کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ احتجاج اُس وقت پُرتشدد رنگ اختیار کر گیا جب لردگان شہر میں دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کر کے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ بعض افراد نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق لردگان میں مظاہرین نے گورنر کے دفتر سمیت دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔دوسری جانب سرحدی صوبے شمالی خراسان کے شہر بجنورد میں ایک دکان کو آگ لگا دی گئی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قریب موجود ایک شہری کی گاڑی کو محفوظ مقام پر منتقل کر کے بڑے نقصان سے بچا لیا۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے 11 روز سے جاری ہیں، جن کے دوران جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 تک پہنچ چکی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق تہران، شیراز اور مغربی علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران تقریباً 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ان مظاہروں میں 250 پولیس اہلکار اور بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے۔ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔