پی آئی اے کو گرائو نڈ طیاروں کے پرزے فروخت نہ کرنے سے ساڑھے 8 ارب کا نقصان

پی آئی اے کے6 طیارے اڑان کے قابل نہیں، ریٹائرڈ طیارے بھی خریدار کے حوالے کئے جا چکے ہیں: پی آئی اے حکام کی پی اے سی کو بریفنگ
سیکرٹری دفاع کاآڈٹ حکام پر بلاجواز اعتراضات عائد کرنے کا الزام،  اتنے بڑے فورم پر اس نوعیت کے الزامات لگانا مناسب نہیں:چیئرمین کمیٹی نوید قمر 
اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو گرائو نڈ طیاروں کے اسپئیر پارٹس بروقت فروخت نہ کرنے کے باعث مجموعی طور پر آٹھ ارب 56 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ انکشاف اسلام آباد میں سید نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکائو نٹس کمیٹی(پی اے سی)  کے اجلاس میں کیا گیا  ۔اجلاس  جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے متعلق آڈٹ رپورٹ 2023-24 سمیت متعدد اہم مالی اور انتظامی امور زیر غور آئے۔۔حکام کے مطابق اب تک تین اعشاریہ آٹھ ارب روپے مالیت کے اسپئیر پارٹس نیلام کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی اسپئیر پارٹس پی آئی اے کے خریدار کو منتقل کر دئیے گئے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت پی آئی اے کے چھ طیارے ایسے ہیں جو اڑان کے قابل نہیں، جبکہ ریٹائرڈ طیارے بھی خریدار کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ فروخت کیے گئے اثاثوں میں گرائونڈ طیارے اور ان کے پرزے شامل ہیں۔اجلاس کے دوران پی آئی اے کی دو جائیدادوں سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا جن سے سندھ حکومت سے دو ارب اکسٹھ کروڑ روپے وصولی ہونی تھی۔ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ دونوں جائیدادیں اب ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کر دی گئی ہیں، جس کے بعد پبلک اکائو نٹس کمیٹی نے اس حوالے سے آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔کمیٹی نے وزارت دفاع کی آڈٹ رپورٹ پر بھی غور کیا جس میں ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس میں خریداری کے دوران ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔سیکرٹری دفاع نے آڈٹ حکام پر بلاجواز اعتراضات عائد کرنے کا الزام عائد کیا، تاہم چیئرمین پی اے سی سید نوید قمر نے کہا کہ اتنے بڑے فورم پر اس نوعیت کے الزامات لگانا مناسب نہیں۔سیکرٹری دفاع نے اس موقع پر تسلیم کیا کہ اے ایس ایف فنڈ میں پے آرڈرز جمع نہیں ہونے چاہیے تھے اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا کوئی اقدام نہیں ہوگا۔