خیبرپختونخوا کے عوام پر پریس کانفرنسوں کے ذریعے الزام لگانا قابلِ قبول نہیں سہیل آفریدی

 80 ہزار جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنا   افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا 
 دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسوں اور یکطرفہ فیصلوں کے بجائے   قومی جرگے کے متفقہ اعلامیہ پر عمل ہونے دیا جائے :وزیراعلی
پشاور(آئی این پی )خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے  وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریبا 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔بی بی سی  کے مطابق سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی طویل پریس کانفرنس پر اپنا موقف دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کی اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔انھوں نے موقف اختیار کیا کہ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس موقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریبا 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔انھوں نے کہا کہ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر موثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔