دو طرفہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم، صدر اور نواز شریف تشکیل دیں، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے:اعلامیہ
سیاسی استحکام کیلئے سب کو مل کربیٹھنا ہوگا‘ملک نہیں چل رہا، ملک کو چلانے کیلئے راستہ ڈھونڈنا ہوگا، حل تب نکلے گا جب سب اکٹھے بیٹھیں گے:شاہد خاقان
سیاسی استحکام بات چیت کے ذریعے ہی آسکتا ہے:عمران اسماعیل‘ہم نے کبھی قومی سلامتی کے تصور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی:شیر افضل مروت
کرپشن میں سیاست دانوں سمیت سب ملوث ہیں:وسیم اختر‘ہمیں اخلاص کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے:لیاقت بلوچ‘کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا ہے دو طرفہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم، صدر اور نواز شریف تشکیل دیں، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے، سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں، میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام اسلام آباد میں قومی ڈائیلاگ کانفرنس سابق قائد اعوان شہزاد وسیم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، وکلاء اور دانشوروں کی پہلی نشست ہوئی۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خطاب میں کہا ملک میں انتشار ہوگا تو ملک ترقی نہیں کرے گا، سیاسی استحکام کیلئے سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔ ملک نہیں چل رہا، ملک کو چلانے کے لیے راستہ ڈھونڈنا ہوگا، حل تب نکلے گا جب سب اکٹھے بیٹھیں گے۔مسئلہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں، ملک کی رہائی کا مسئلہ ہے، حالات اتنے خراب ہیں لوگ خود ہی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا جو مقام ہے ایسا کبھی نہیں دیکھا، ہم نے بھارت کو شکست دی، ملک میں سیاسی استحکام بات چیت کے ذریعے ہی آسکتا ہے، ہماری دفاعی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کا ساتھ دینا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو غداری کا لیبل لگانے کے بجائے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔بیرسٹر سیف علی خان نے کہا کہ سیاسی طور پر ملک میں تقسیم ہے اعتماد کی فضاء قائم کرنے کی ضرورت ہے، ایک بداعتمادی یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نکل کر سیاسی عدم استحکام پیدا کریں گے اس لیے رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں، سازگار ماحول پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہم نے کبھی قومی سلامتی کے تصور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، صلح حدیبیہ میں بھی ایسی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں، نیلسن منڈیلا نے کتنا عرصہ جیل میں گزارا لیکن ڈالائیگ کا عمل ہمیشہ سے ہی پائیدار نتیجہ دیتا ہے ایک ہم ہیں کہ سیاسی مخالفت کو نقطہ عروج پر پہنچا دی‘ فوج کو پاکستان کی طاقت بننا ہے پاکستان کو فوج کی طاقت نہیں بننا‘رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے وہ نہیں ہیں وہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ وہ بینیفشری ہیں، سیاسی جماعتوں کے بجائے عوام مشکلات سہہ رہی ہیں، جو 1988ء میں وزیراعظم بننا چاہتا تھا وہ آج بھی وزیر اعظم بننا چاہ رہا ہے، کرپشن میں سیاست دانوں سمیت سب ملوث ہیں، میں چاہتا ہوں ملک میں کنال بنیں، ملک میں صوبے بنیں یہ تاثر نہیں جانا چاہیے ہم بھی کسی چکر میں ہیں، رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا جب کوئی حکومت میں ہوتا ہے اس کا بیانیہ ہوتا ہے سب ٹھیک ہے، جب کوئی اپوزیشن میں ہوتا ہے تو کہتا ہے سب کچھ تباہ ہو گیا، ہمیں اخلاص کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، لاپتا افراد، آزادی صحافت، صوبوں کے مابین ہم آہنگی، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ڈائیلاگ کا حصہ ہونا چاہیے۔