جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گریم سمتھ نے ٹو ڈویژن ٹیسٹ کرکٹ کی مخالفت کی ہے، جسے حال ہی میں متعارف کرانے کی تجاویز سامنے آئی تھیں۔
سمتھ نے اس نئے فارمیٹ کو کرکٹ کے عالمی منظرنامے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صرف تین ممالک (انگلینڈ، بھارت، اور آسٹریلیا) ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں، تو یہ دیگر ممالک کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا، اور اس سے کرکٹ کے دیگر ممبر ممالک کو نقصان پہنچے گا۔گریم سمتھ نے مزید کہا کہ یہ بھارت کے لیے تو فائدہ مند ہو سکتا ہے، کیونکہ دوسرے ممالک بھارت کو مالی طور پر اہم سمجھتے ہیں، مگر ایسا اسٹرکچر ورلڈ کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ان کے مطابق، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کو مضبوط بنانا اور سری لنکا کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ عالمی کرکٹ کا معیار بلند ہو سکے۔
ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ نے بھی ٹو ڈویژن ٹیسٹ کرکٹ کے فارمیٹ کو غیر متاثر کن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آئیڈیا ان ممالک کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے جنہوں نے ٹیسٹ اسٹیٹس کے لیے سخت محنت کی ہے۔ دونوں سابق کرکٹرز کا یہ موقف ہے کہ آئی سی سی کو اس نئے فارمیٹ کو دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔