ہری پور میں دو بھائیوں کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والا مرکزی ملزم پولیس افسر نکلا

ہری پور میں دو بھائیوں کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والا مرکزی ملزم پولیس افسر نکلا

ہری پور میں پانچ روز قبل پسند کی شادی پر دو حقیقی بھائیوں کے قتل کا مقدمہ سامنے آیا، اور اس کی تحقیقات میں ایک اہم انکشاف ہوا کہ قتل کی منصوبہ بندی کرنے والا مرکزی ملزم کوئی اور نہیں بلکہ ایک حاضر سروس پولیس افسر تھا۔

 پولیس نے بتایا کہ مقتولین کی والدہ اور بھائی نے سب انسپکٹر قاضی اجمل کو ملزم کے طور پر نامزد کیا، جس کے بعد تفتیشی افسر کو گرفتار کر لیا گیا۔تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ قاضی اجمل نے مخالفین سے مبینہ طور پر بھاری رقم لے کر قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق سب انسپکٹر قاضی اجمل نے اس قتل کو انجام دینے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں دو بھائیوں کو قتل کیا گیا۔

ایس پی ہری پور جمیل الرحمان نے اس حوالے سے بتایا کہ گرفتار سب انسپکٹر کے خلاف تھانہ سٹی میں قتل اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ان دفعات میں 302 (قتل)، 34 (مشترکہ ارادہ) اور 109 (قتل کی ترغیب) شامل ہیں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور پولیس افسر کے کردار کی تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

یہ واقعہ پولیس کے اندرونی مسائل اور کرپشن کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ایک پولیس افسر اپنے ذاتی مفادات کے لیے قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث ہوا۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور عوام کا اعتماد پولیس پر بحال ہو سکے۔