190 ملین پائونڈ کیس کا فیصلہ ڈیل کی وجہ سے موخرنہیں ہو رہا:بیرسٹر گوہر

 عمران خان واضح کر چکے ہیں  ڈیل نہیں چاہتے،ہم  نہیں چاہتے  رہائی کسی ایگزیکٹو آرڈر کے نتیجے ہو، قانونی طریقہ کار مکمل کیا جائے  ‘القادر ٹرسٹ کا فیصلہ نہ آنا قابل تشویش ہے:چیئرمین پی ٹی آئی
 عمران خان سمیت تمام اسیروں کو میرٹ پر ضمانت ملنی چاہیے:عمرایوب‘ریاست اور عوام میں دوریاں ختم کی جائیں:سلمان اکرم راجہ‘حکومت دو‘چار ماہ کی مہمان ہے:شبلی فراز‘پریس کانفرنس
ا سلام آباد(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل میں قید بانی عمران خان اور اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پائونڈ کیس کا فیصلہ ڈیل کی وجہ سے موخر ہونے کی تردید کر دی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے  عمرایوب، سلمان اکرم راجہ اور شبلی فرازکے ہمراہ  ہمراہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ 190 ملین پانڈ کیس کا فیصلہ ڈیل کی وجہ سے موخرنہیں ہو رہا، عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نہیں چاہتے کہ عمران خان کی رہائی کسی ایگزیکٹو آرڈر کے نتیجے ہو، ہم چاہتے ہیں قانونی طریقہ کار مکمل کیا جائے اور پھر رہائی ہو۔مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دو مطالبات مذاکرات میں رکھ چکی ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو رہا کیا جائے۔بیرسٹر گوہر نے ایک بار پھر کہا کہ ڈیل کے تحت القادر ٹرسٹ کیس میں تاریخیں آگے بڑھنے کی تردید کرتے ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ عمران خان سمیت تمام اسیران کو میرٹ پر ضمانت ملنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی نے پاکستان کیلئے بات کی ہے اور کہا ہے کہ میرے ساتھ جو ہوا میں ان کو معاف کرتا ہوں۔پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کل میری عمران خان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اسیران کی رہائی کے بعد باہر آنے والا آخری شخص ہوں گا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جبر کے ماحول میں معیشت کی ترقی نہیں ہو سکتی، ریاست اور عوام میں جو دوریاں پیدا ہوئیں ان کو ختم کیا جانا چاہیے،۔ شبلی فراز نے کہاکہ تحریک انصاف نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کی بات کی، بانی پی ٹی آئی پرسیاسی بنیادوں پرکیسزبنائے گئے، القادرٹرسٹ کیس کا فیصلہ نہ آنے پرہمیں تشویش ہے، القادرٹرسٹ کیس کا فیصلہ فوری آنا چاہیے، عمران خان اوران کی اہلیہ القادرٹرسٹ کیٹرسٹی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی کوفلاحی کام کرنے کی سزا دی جا رہی ہے، ہم کوئی رعایت نہیں مانگ رہے، ہم چاہتے ہیں انصاف کے تقاضوں کوپورا کیا جائے