سپین میں غیر قانونی مقیم پاکستانیوں کے نئے پاسپورٹس کے اجرا کے لئے پولیس رپورٹ کی شرط سے استثنی دیا جائے، پاکستانی سفارت خا نہ
اسلام آباد(آئی این پی ) سپین میں پاکستانی سفارت خانے نے وزارت داخلہ کو سفارش کی ہے کہ سپین میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کے نئے پاسپورٹس کے اجرا کے لیے پولیس رپورٹ کی شرط سے استثنی دیا جائے تاکہ وہ سپین میں امیگریشن پالیسی میں ہونے والی نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بآسانی قانونی حیثیت حاصل کر سکیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق سپین کی حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے امیگریشن پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دینے کے فیصلے نے وہاں مقیم ہزاروں پاکستانیوں میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔اس فیصلے کے بعد سپین میں رہنے والے وہ پاکستانی جو برسوں سے بغیر دستاویزات کے زندگی گزار رہے تھے، قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے سرگرم ہو گئے اور اپنی فائلیں تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا۔سپین کا لاکھوں تارکین وطن کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ، توقع نہیں تھی یہ ملک اتنا اچھا ہوگا۔اس عمل میں سب سے پہلا اور بنیادی مرحلہ کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا تھا جس کے لئے اتھارٹی لیٹر درکار ہوتا ہے۔ تاہم چونکہ بڑی تعداد میں پاکستانی غیر قانونی حیثیت کے باعث کسی سپینش ادارے کے ریکارڈ میں موجود نہیں تھے، اس لیے مقامی ادارے نہ تو اتھارٹی لیٹر جاری کرنے کو تیار تھے اور نہ ہی اس کی تصدیق کرنے پر آمادہ تھے، جس سے ہزاروں درخواست گزار ایک پیچیدہ قانونی خلا میں پھنس گئے تھے۔اس مسئلے پر پاکستانی سفارتخانے اور مختلف قونصل خانوں نے غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے اتھارٹی لیٹرز جاری کیے۔ ان اتھارٹی لیٹرز کو پاکستان میں متعلقہ اداروں نے تسلیم بھی کر لیا، جس کے بعد کریکٹر سرٹیفکیٹس کے اجرا کی راہ ہموار ہوئی۔ تاہم جیسے ہی یہ مرحلہ مکمل ہوا، ایک اور کہیں زیادہ سنگین مسئلہ سامنے آ گیا اور وہ پاسپورٹس کی عدم دستیابی تھا۔سپین میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد وہ ہے جو یورپ تک ڈنکی کے ذریعے، یعنی غیر قانونی اور خطرناک راستوں سے پہنچی ہے۔