وکیل کو حقائق اور قانون دونوں پر عبور ہونا چاہیے، ،وکیل کا امتحان کبھی ختم نہیں ہوتا، ہر پیشی نیا چیلنج ہے:سینئر جج سپریم کورٹ کا تقریب سے خطاب
اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد علی مظہر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء کو پیشہ ورانہ مہارت، تیاری اور دیانت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھے وکیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقائق کے ساتھ ساتھ قانون پر بھی مکمل دسترس رکھتا ہو، کیونکہ عدالت میں پیش ہونا روزانہ ایک امتحان کے مترادف ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جب کوئی وکیل عدالت میں پیش ہوتا ہے تو ججز اس سے قانونی نکات پر سوالات کرتے ہیں۔ اگر ان سوالات کا بروقت اور تسلی بخش جواب نہ ملے تو ججز دو یا تین مرتبہ سوال دہراتے ہیں، تاہم اس کے باوجود جواب نہ آنے کی صورت میں یہ تاثر قائم ہو جاتا ہے کہ وکیل مطلوبہ تیاری کے بغیر عدالت میں آیا ہے۔انہوں نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کمرہ عدالت میں موبائل فون بند رکھنا عدالتی وقار کے تقاضوں میں شامل ہے اور ججز کو رنگ ٹون کے ذریعے متاثر کرنے کے بجائے اپنے قانونی دلائل اور تیاری کے ذریعے متاثر کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف موبائل رنگ ٹونز کی آوازیں جج کی توجہ متاثر کر سکتی ہیں اور سماعت کے دوران ذہن بٹنے کا سبب بنتی ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے زور دیا کہ عدالت میں نہ کوئی بات چھپائی جائے اور نہ ہی غلط بیانی سے کام لیا جائے، کیونکہ اگر وکیل حقائق کے برعکس مؤقف اختیار کرے تو اس کا عدالت پر اچھا اثر نہیں پڑتا