پاکپتن(خصوصی رپورٹ) نوجوان بینکر مبینہ طور پر انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ گیا، جسے ایک ماہ بعد سکردو سے بازیاب کرا لیا گیا، پاکپتن کے سابق بینک آفیسر محمد رمضان نے بتایا کہ اس کا برادر نسبتی علی نواز دیپالپور میں نجی بینک میں آپریشن منیجر تھا، پانچ جنوری کو وہ دوستوں کے ہمراہ مری سیر کے لیے جانے کا کہہ کر چلا گیااور تلاش کے بعد بھی اس کا سراغ نہ ملا، جس پر تھانہ صدر دیپال پور میں نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرایا گیا، پانچ فروری کو سرکاری تحقیقاتی ادارہ نے سکردو کے علاقہ سے اسے بازیاب کرایا، سرکاری ٹیم نے 20 افراد کو وہاں پر رکھا ہوا تھا، جن میں علی نواز بھی شامل ہے،جس کو ورثاء کے حوالے کر دیا تا ہم اس کی حالت خراب تھی، جس پر اسے لاہور کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، سابق بینکر محمد رمضان کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلروں نے اسے ترکی کے راستے یورپ بھجوانے کے لیے 35 لاکھ حاصل کیے تھے اور وہ گھر سے بھی لاکھوں روپے ساتھ لے گیا تھا، انسانی سمگلروں نے اسے بھوکا پیاسا رکھا جس سے اس کی حالت خراب ہو گئی تھی