راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جج امجد علی شاہ نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے خلاف درج 31 مقدمات کی سماعت کی۔
یہ مقدمات 26 نومبر کے بعد درج کیے گئے تھے، اور ان کی تفتیش کے لیے پولیس نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
بشریٰ بی بی کو عدالت میں پیش کیا گیا
سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے عدالت لایا گیا۔31 مقدمات کے تفتیشی افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے، جنہوں نے بشریٰ بی بی کو شاملِ تفتیش کرنے کے لیے عدالت سے اجازت طلب کی۔
بشریٰ بی بی کا مؤقف
بشریٰ بی بی نے عدالت کو بتایا کہ وہ بغیر مشاورت شاملِ تفتیش نہیں ہو سکتیں۔انہوں نے کہا کہ وہ بانیٔ پی ٹی آئی اور اپنے وکیل سے مشورہ کرنے کے بعد بیان ریکارڈ کرانے کے لیے تیار ہیں۔بشریٰ بی بی نے عدالت سے درخواست کی کہ آج ہی بانیٔ پی ٹی آئی اور وکیل سے ملاقات کروائی جائے تاکہ وہ آج ہی شاملِ تفتیش ہو سکیں۔انہوں نے یہ بھی استدعا کی کہ وہ بانیٔ پی ٹی آئی کی موجودگی میں شاملِ تفتیش ہونا چاہتی ہیں۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے ایس او پیز کے مطابق بشریٰ بی بی کی بانیٔ پی ٹی آئی اور وکیل سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔عدالت نے بشریٰ بی بی کے 31 مقدمات کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی۔
پسِ منظر
بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات میں 26 نومبر کے بعد ہونے والے احتجاج، مظاہروں، اور مختلف قانونی الزامات شامل ہیں۔انہیں پہلے بھی مختلف تحقیقات میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے ہر بار قانونی مشاورت پر زور دیا۔بشریٰ بی بی کی یہ درخواست ایک اہم قانونی موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ بغیر مکمل مشاورت کے کوئی بیان دینے سے گریز کر رہی ہیں۔
آئندہ کا ممکنہ لائحہ عمل
7 مارچ کی سماعت میں بشریٰ بی بی کی مشاورت مکمل ہونے کے بعد وہ اپنا بیان ریکارڈ کرا سکتی ہیں۔اگر عدالت انہیں بانیٔ پی ٹی آئی کی موجودگی میں شاملِ تفتیش ہونے کی اجازت دیتی ہے تو یہ تحقیقات کا رخ بدل سکتا ہے۔پولیس کی تفتیشی ٹیمیں ان سے احتجاجی مقدمات میں ان کے ممکنہ کردار سے متعلق سوالات کریں گی۔یہ معاملہ نہ صرف قانونی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور آئندہ سماعت میں اس کیس کی مزید پیش رفت متوقع ہے۔