لاہور:
آر اے بازار میں ایک ہفتہ قبل خواتین کے ساتھ ہونے والی ڈکیتی کی واردات کا ڈراپ سین ہوگیا، جب پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مقدمہ درج کرانے والی خاتون خود ہی اپنے ساتھیوں کے ساتھ واردات میں ملوث تھی۔
ملزمان اور ان کی گرفتاری
پولیس کے مطابق اس کیس میں چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں مدعیہ صائقہ، اس کی سہیلی سمیرا، اور ان کے دو ساتھی عمیر اور منیب شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 8 لاکھ 53 ہزار روپے نقدی اور اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
واردات کی حقیقت
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمہ صائقہ کو اس کی سہیلی سمیرا نے اپنے زیورات فروخت کے لیے دیے تھے۔ صائقہ نے یہ رقم خود رکھنے کی منصوبہ بندی کی اور ڈکیتی کا جھوٹا ڈرامہ رچایا۔ اس نے اپنی سہیلی سمیرا اور ساتھیوں عمیر اور منیب کے ساتھ مل کر ایک جھوٹا مقدمہ درج کرایا تاکہ پولیس کو گمراہ کیا جا سکے۔
تحقیقات کیسے ہوئیں؟
پولیس نے ٹیکنیکل ذرائع اور ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے تحقیقات کیں، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ واردات کی اصل ذمہ دار خود مدعیہ تھی۔
پولیس کا مؤقف
سی پی او سید خالد ہمدانی نے ملزمان کی گرفتاری پر ایس پی پوٹھوہار، ڈی ایس پی کینٹ، اور آر اے بازار پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں چالان کرکے سخت سزا دلوائی جائے گی۔ انہوں نے کہا:"چاہے ملزمان کتنے ہی شاطر کیوں نہ ہوں، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔"