کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے حالیہ بیانات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی دھمکیوں کو حقیقت پر مبنی قرار دیتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے کی تاکید کی ہے۔
ٹروڈو نے ٹورنٹو میں ایک پس پردہ میٹنگ کے دوران بزنس لیڈرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی نظریں کینیڈا کے اہم معدنی وسائل پر ہیں اور وہ کینیڈا کو امریکی ریاست میں ضم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، امریکہ ہمارے وسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اور ٹرمپ کا خیال ہے کہ کینیڈا کو ضم کرنا اس کا آسان ترین طریقہ ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا تھا کہ وہ کینیڈا کے خلاف اقتصادی طاقت کا استعمال کریں گے اور کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بننا چاہیے۔ اس پر وزیر اعظم ٹروڈو نے جواب دیا تھا کہ کینیڈا قیامت تک امریکہ میں ضم نہیں ہوگا۔یہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں، خاص طور پر جب کہ امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔