کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو آج پیر کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کر سکتے ہیں۔
امریکی خبر ایجنسی کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ لبرل پارٹی کے نیشنل کاکس اجلاس سے پہلے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کریں گے۔ ٹروڈو کو اپنی سیاسی جماعت، لبرل پارٹی کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے، اور ان کے خلاف پارٹی کے اندر غصہ بڑھ رہا ہے۔جسٹن ٹروڈو 2015 میں پہلی بار کینیڈا کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور پھر 2019 اور 2021 میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے مسلسل تیسرے دور میں وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں ان کے خلاف مختلف شکایات سامنے آئی ہیں، جن میں سب سے بڑی شکایت ان کی امیگریشن پالیسی کی ہے۔دسمبر 2024 میں، وزیر خزانہ کرسٹیا فری لینڈ کی تنزلی کی کوششوں کے بعد فری لینڈ نے استعفیٰ دیا اور ٹروڈو پر سیاسی چالاکیوں کا الزام لگایا۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ٹروڈو کی غلط امیگریشن پالیسی کے نتیجے میں لاکھوں تارکین وطن کینیڈا پہنچے ہیں، جس کی وجہ سے پہلے سے دباؤ کا شکار ہاؤسنگ مارکیٹ پر مزید بوجھ پڑا۔
کینیڈا میں ہونے والے اگلے عام انتخابات میں، رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کو برتری حاصل ہے، اور اگر ٹروڈو استعفیٰ دیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی لبرل پارٹی بھی نئے قائد کے انتخاب کی سمت میں پیش قدمی کرے گی۔ ٹروڈو کے استعفیٰ کے بعد کینیڈا میں جلد انتخابات کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے تاکہ نئی حکومت امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو مزید آگے بڑھا سکے۔اس فیصلے کے اثرات کینیڈا کی سیاست میں اہم ہو سکتے ہیں، کیونکہ ٹروڈو کے دور میں ملک نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں، جن میں امیگریشن، معیشت، اور ماحولیاتی پالیسیز شامل ہیں۔ ان کے استعفیٰ کے بعد ملک میں سیاسی خلا پیدا ہو سکتا ہے، جس سے مستقبل کی حکومت کی تشکیل پر اثر پڑے گا۔