پنجابی صرف زبان نہیں مکمل تہذیب اور طرزِ زندگی،اسکولوں میں پنجابی زبان لازمی پڑھانے کا فیصلہ خوش آئند ہے
پنجابی ہر بڑی پوزیشن پر نمایاں نظر آتے ہیں،اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں کا لاہور میں انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس میں خطاب
لاہور(خصوصی رپورٹر) تیسری انٹرنیشنل پنجابی کانفرنس کے آخری روز ‘‘پنجاب کے سیاسی بیانیے’’ کے موضوع پر منعقدہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ اس وقت پنجاب کا سیاسی بیانیہ مشکل مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، مضبوط فیڈریشن کے لیے پنجاب کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنا حصہ بلوچستان کو دیا، جو صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی بڑی مثال ہے۔اسپیکر نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے سیاسی جماعتوں کے منشور ختم ہو چکے ہیں اور صرف بیانیے باقی رہ گئے ہیں، جبکہ اس وقت سیاسی جماعتیں بھی صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے پنجابی ہر بڑی پوزیشن پر نمایاں نظر آتے ہیں اور اسی بنیاد پر ان پر حقوق غصب کرنے کے الزامات بھی لگتے ہیں۔ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ پنجاب صرف زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، رہن سہن اور طرزِ زندگی کا نام ہے۔ پنجابی لباس میں انسان باوقار لگتا ہے اور پنجابی موسم جیسا موسم کہیں اور نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو پنجاب کبھی سرسبز تھا آج اس کے حصے میں اسموگ آ گئی ہے اور پنجاب چیخ رہا ہے کہ ہمیں سانس لینے دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کہ اسکول کی سطح پر پنجابی زبان کو لازمی طور پر پڑھایا جائے گا۔ بطور سپیکر انہوں نے پہلے دن ہی واضح کر دیا تھا کہ پنجابی میں بات کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے پنجابی زبان کے فروغ کے لیے ہونے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجابی کو عربی رسم الخط میں بھی لکھا جا رہا ہے اور رسم الخط دراصل حکمرانوں کا ہوتا ہے۔اسپیکر نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل جدوجہد کے بعد پنجاب میں پہلی حکومت رنجیت سنگھ نے بنائی تاہم اس کا رویہ ہمارے ساتھ اچھا نہیں تھا اور حکمرانوں کی لڑائیوں میں ہمیشہ پنجابی ہی مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پر یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ پنجاب غاصب ہے، حالانکہ پنجاب کچھ بنیادی حق مانگتا ہے، جن میں گندم جیسی فصل بھی پنجاب کی شناخت سے جڑی ہے۔اس موقع پر انہوں نے ندیم افضل چن کو ایک توانا عوامی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم عوام کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے چودھری منظور کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے پنجابی زبان اور بلھے شاہ کے لیے نمایاں کام کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ پنجاب محبت پھیلانے والے صوفیوں کی دھرتی ہے اور موجودہ مسائل کا حل محبتوں کو مزید فروغ دینے میں ہے۔