امریکا نے ایران سے منسلک مالیاتی اور کرپٹو نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق تازہ کارروائی میں 6 اداروں اور ایک فرد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایسے ڈیجیٹل اثاثہ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایرانی حکومت، پاسدارانِ انقلاب اور دیگر پابندی زدہ اداروں کے لیے مالی لین دین کی سہولت فراہم کی اور تہران کو عالمی مالیاتی نظام تک بالواسطہ رسائی برقرار رکھنے میں مدد دی۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق کارروائی میں دو بڑے ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینج پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ ایرانی عناصر نے کم نگرانی والے یا غیر لائسنس یافتہ کرپٹو پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل اثاثے منتقل کیے اور لین دین کے ایسے طریقے استعمال کیے جن سے رقوم کے اصل ذرائع چھپانے اور امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی تھی۔تازہ امریکی کارروائی میں دبئی میں قائم کرپٹو ایکسچینج شیلبٹ اور اس کے ایرانی بانی سیاوش کیوان پور کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ شیلبٹ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب، مرکزی بینک اور دیگر ایران سے منسلک اداروں کے لیے لاکھوں ڈالر مالیت کی کرپٹو ٹرانزیکشنز میں سہولت فراہم کی۔رائٹرز کی ایک حالیہ تحقیقات میں بھی شیلبٹ کو ایران سے متعلق ایک وسیع مالیاتی نیٹ ورک سے جوڑا گیا تھا، جس کے ذریعے اربوں ڈالر مالیت کی کرپٹو ٹرانزیکشنز ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
تاہم شیلبٹ نے غیر قانونی سرگرمیوں یا منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی سرگرمیاں جنوری 2026 میں بند ہوگئی تھیں۔امریکی حکومت نے ایران پر اپنی ’’زیادہ سے زیادہ اقتصادی دباؤ‘‘ کی پالیسی کے تحت مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی سرگرمیوں اور تجارتی جہازوں کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کو بھی وسیع تر پابندیوں کی پالیسی کے تناظر میں اجاگر کیا گیا ہے۔امریکی پابندیوں کے نتیجے میں نامزد افراد اور اداروں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد ہوسکتے ہیں، جبکہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے ان کے ساتھ مخصوص مالی لین دین پر پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق کرپٹو ایکسچینجز کو نشانہ بنانا امریکا کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے ایران کے متبادل مالیاتی ذرائع، پابندیوں سے بچنے کے راستوں اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک مبینہ مالیاتی نیٹ ورکس کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔