وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ستھرا پنجاب پروگرام سے متعلق خصوصی جائزہ اجلاس ہوا، جس میں صوبے بھر میں صفائی کے نظام کو مزید مؤثر اور بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم ہدایات جاری کی گئیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے مارکیٹوں اور بازاروں میں یکساں طرز کے ڈسٹ بنز اور گاربیج بیگز استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کمرشل علاقوں سے ویسٹ اٹھانے کے لیے باقاعدہ اوقات کار مقرر کرنے کا حکم دیا۔انہوں نے مرکزی شاہراہوں کی صفائی اور دھلائی صبح 5 بجے شروع کرنے، مختلف علاقوں میں موجود خالی پلاٹس کی صفائی یقینی بنانے اور صوبے بھر میں ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے ستھرا پنجاب ورکرز کو ہر ماہ 5 تاریخ تک تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کمپنیوں سے ورکرز کو ادائیگی کی ماہانہ رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے ستھرا پنجاب کے کنٹریکٹرز کی واجب الادا رقوم بھی جلد ادا کرنے اور تنخواہوں میں تاخیر پر فوری کارروائی کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے علاقائی ضروریات کے مطابق صفائی ورکرز اور مکینیکل مشینری کی کمی پوری کرنے کے ساتھ اے ڈی سی سوشل سروسز کو صفائی کی صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔انہوں نے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کے گردونواح، پارکس اور گرین بیلٹس میں بھی صفائی یقینی بنانے کا حکم دیا۔ خالی منرل واٹر بوتلوں، جوس کے ڈبوں اور دیگر کچرے کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
ریلوے ٹریک کے اطراف شہری علاقوں، شہروں کے داخلی و خارجی راستوں اور سبزی و فروٹ منڈیوں میں خصوصی صفائی پر بھی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔مریم نواز نے ڈپٹی کمشنرز کو متعلقہ کنٹریکٹرز اور ایم ڈی واسا کے ساتھ مسلسل رابطے اور ملاقاتیں کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فیلڈ مانیٹرنگ افسران کے لیے یکساں یونیفارم اور موٹر سائیکلوں کی برانڈنگ کا بھی حکم دیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کنٹریکٹرز کو جرمانہ کرنے سے پہلے 24 گھنٹے میں بہتری لانے کی مہلت دی جائے، جرمانہ کرنا مقصد نہیں بلکہ صفائی کے معیار کو بہتر بنانا اصل ہدف ہے۔انہوں نے ستھرا پنجاب میں کام نہ کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صفائی کی گاڑیوں، کنٹینرز اور ویسٹ کلیکشن پوائنٹس کی باقاعدگی سے صفائی کی جائے۔
مریم نواز نے کہا کہ صرف مرکزی شاہراہوں کی صفائی کافی نہیں بلکہ گلی محلوں کی صفائی بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے لاہور، خانیوال، اوکاڑہ، اٹک، قصور اور مری کے عملے کو اچھی کارکردگی پر شاباش دی، جبکہ فیصل آباد، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور دیگر اضلاع کو کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے جاری احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے 7 روز بعد دوبارہ اجلاس طلب کرلیا۔