ورچوئل اثاثہ پرووائیڈرز کیلئے لائسنسنگ نظام کی تیاری آخری مراحل میں داخل

اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان میں ورچوئل اثاثہ سروس پرووائیڈرز کے لئے  لائسنسنگ نظام کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہوگئیں۔چیئرمین بلال بن ثاقب کی زیرِ صدارت پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کا تیسرا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری قانون، چیئرمین ایس ای سی پی، چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ورچوئل اثاثہ جات کے ریگولیٹری فریم ورک، ہیومن ریسورس اور لائسنسنگ ریگولیشنز پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ورچوئل اثاثہ سروس پرووائیڈرز کے لئے مکمل لائسنسنگ نظام پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کے لئے اہم سنگِ میل ہے۔ ان  کا کہنا تھا کہ نیا ریگولیٹری فریم ورک شفاف، جدید اور رسک بیسڈ نظام پر مبنی ہوگا، جس کا مقصد ذمہ دارانہ جدت، مارکیٹ کی شفافیت اور صارفین و سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔