بھارت کے دارالحکومت دہلی کے ایک ریسٹورنٹ نے شلوار قمیض پہننے پر خاتون کو اندر جانے سے روک دیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل ویڈیو میں ایک جوڑے نے الزام عائد کیا کہ وہ ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے آئے تھے لیکن منیجر نے ان کی بیوی کو شلوار قمیض پہننے کی وجہ سے اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ جوڑے کے مطابق، منیجر نے ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی، جبکہ دیگر گاہک جو پینٹ شرٹ یا دیگر مغربی لباس میں تھے، انہیں بغیر رکاوٹ داخل ہونے دیا گیا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھارتی وزیر کپل مشرا نے واقعے کا نوٹس لیا اور بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو آگاہ کر دیا ہے۔ حکام کو تحقیقات کرنے اور واقعے پر کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپل مشرا نے کہا کہ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ لباس کی بنیاد پر کسی پر پابندی نہیں لگائی جائے گی۔ مزید یہ کہ رکشا بندھن کے موقع پر بھارتی روایتی لباس پہن کر آنے والی خواتین کو خصوصی رعایت بھی دی جائے گی۔دوسری جانب ریسٹورنٹ کے مالک نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ جوڑے نے ٹیبل بُک نہیں کی تھی، اسی وجہ سے انہیں داخلہ نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق، ریسٹورنٹ کی کوئی ڈریس کوڈ پالیسی نہیں ہے اور تمام گاہکوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔