ویب ڈیسک: علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے سے حکومت روک نہیں سکتی
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے عدالت میں پیشی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف متعدد کیسز ہیں اور ضمانت بھی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قتل کے مقدمے میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ سب ناجائز کیسز ہیں۔ علیمہ خان نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان کا پیغام عوام تک پہنچانا جرم ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ججز سے کہیں گے کہ ان کے پاس مجبوری ہے، تو کب تک یہ مجبوری برقرار رہے گی؟ پولیس پر دباؤ ہے کہ غلط کیسز بنا کر عوام کو گمراہ کیا جائے، جبکہ قوم ان کے ساتھ ہے۔علیمہ خان نے یہ بھی بتایا کہ وہ غریب لوگوں کی مدد کے لیے آٹھ نو گھنٹے سفر کرتی ہیں اور سب کو بلا کر الزام لگانے کے بجائے ثابت کریں یا چھوڑ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد ختم ہو چکا ہے اور ججز کو چاہیے کہ اسے بحال کریں۔ 14 اگست کو بھی سیاسی مظاہرہ ہوگا، جس کا مقصد آزادی کے لئے قربانیاں دینے والی قوم کی آزادی کا پیغام دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کے پاس نائیکوپ ہے، کارڈ نہیں، اور وہ برٹش پاسپورٹ پر ویزا کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔
حکومت ان کے آنے سے روک نہیں سکتی۔علیمہ خان نے بتایا کہ وہ آج پھر ایمبیسی سے رابطہ کریں گی، اگر ویزہ نہیں دیا گیا تو مزید کوشش کریں گے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ معاملہ وزارت خارجہ کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست کو قوم نے خوف کے بت توڑے ہیں اور وہ قانون توڑنے والوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ قتل کیس میں عبوری ضمانت کروانے کا ارادہ نہیں ہے۔ اس موقع پر ان کے وکیل فیصل ملک نے کہا کہ کیس کی نقول مانگی گئی ہیں اور پھر فیصلہ کیا جائے گا۔قبل ازیں، علیمہ خان تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر کے احتجاج کے کیس میں عدالت پہنچیں، جہاں عدالت نے ان کی عبوری ضمانت 25 اگست تک توسیع دی۔