نازیہ آصف
آجکل ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ فیس بک یا کسی بھی دوسری سوشل میڈیا ایپ پہ کسی ایک فوجی یا دو چار جوانوں کی شہادت کی خبر اور تصاویر لگی ہوتی ہیں۔
اب ہونا یہ چاہیے کہ ان رخصت ہو جانے والی روحوں کے لیے محبت و حزن کا اظہار کیا جائے مگر عموما دیکھا یہ جا رہا ہے کہ وہاں بہت سارے لوگ لافنگ ایموجیز لگا کر اپنے قہقہوں اور خوشی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔
کسی کی موت پہ خوشی۔۔۔چہ جائیکہ۔۔۔ ؟
ہمیں ہمارے اسلاف ، روایات اور سب سے بڑھ کر دین نے یہ سکھایا کہ کسی کے دکھ درد موت پہ افسوس کیا جاتا ہے اس میں شامل ہو کر متاثرہ فرد یا خاندان کے دکھ کو بانٹا جاتا ہے۔مگر ہم نے کسی کی موت پہ ہنسنا کب سے سیکھ لیا۔۔۔ ؟
ہاں آپ کو کسی کی شہادت کے نصب العین سے ، طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر موت پہ قہقہے لگانا تو چنگیز خان سے بھی چار ہاتھ آگے بڑھ جانا ہے۔چنگیز خان کا سنتے یا پڑھتے آئے ہیں کہ وہ دشمن کی پوری پوری بستیوں کو زندہ جلا کر ہنستے تھے۔
جبکہ ہماری تربیت تو اس بات ہے ہوء کہ
"دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا ہو"
اور یہ بات سو فیصد سچ ہے۔اچھا برا وقت سب پہ آنا لازم ہے۔
ہم دشمن کی موت پہ بھی گھر میں سرعام کھانا پکانا ریڈیو ٹی وی دو چار دن کے لیے ہی سہی ، بند کر دینا ہماری روایات میں تھا۔
لیکن اب دیکھتے ہیں کہ ففتھ جنریشن وار کا یہ بھیانک وار کس قدر قدر خوفناک طریقے سے اثر انداز ہو رہا ہے کہ چار لوگوں کی شہادت پر سولہ سو میں سے تقریبا پانچ سو لوگ ہنس رہے ہیں۔ کیا ہنسنے والوں کو موت نہیں آنی۔ ان کو ان کی شہادت سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر موت سے تو کسی کو اختلاف نہیں۔مرنا تو برحق ہے۔زندگی تو فانی ہے۔مگر یہ دانت نکالنا۔۔۔۔
شائد خوف خدا ہی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا اگر استعمال کرنا ہو تو اس کے آداب بھی سمجھنا چاہییں۔ بڑا اچھا ہوتا ہے کسی پوسٹ سے اگر
اختلاف ہو تو اسے اگنور کر دیا جائے ، یا اپنی اسلامی معاشرتی اخلاقی حدود میں رہ کر رائے دی جائے۔
جو لوگ شہید ہوئے ان کے لواحقین بھی ہوتے ہیں کیا انسانیت کا ناطہ بھی ختم ہو چکا ہے ہم ان کے پیاروں کی شہادت پہ دو منٹ خاموش نہیں رہ سکتے۔
یاد رکھیے اس طرح شہادت پہ لافنگ ایموجیز دینا کوء معمولی بات نہیں، اس کے اثرات بہت گہرے ہوں گے۔ بظاہر کسی کی شہادت پہ ہنسنے والا یہ معمولی سا ایموجی ہے مگر یقین مانیے یہ ایموجی معمولی ہر گز نہیں ہے۔ یہ ہمارے نظریات پہ وار کر رہا ہے۔ قوم کو تقسیم کرنے کی چال ہے۔
یہ محض شہادت پہ وار نہیں ہے۔ یہ قوم کی یگانگت اور حب الوطنی پہ وار ہے اور جب قوم کو منتشر کرنا ہو تو سب سے پہلے نظریات ، روایات اور ہیروز پہ وار کر کے انھیں پہلے مشکوک اور پھر متنازعہ بنا دیا جاتا ہے۔ اسلام میں شہادت اور شہید کا رتبہ بہت اعلی ہے۔
سورہ النساء میں ہے کہ
ترجمہ" ایسے اشخاص بھی ان کے ساتھ ہوں گے جن پہ رب تعالیٰ نے انعام فرمایا ، یعنی انبیاء اور صدیقین شہدا اور صالحین اور بیشک یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں "۔
یہ بھی حدیث صحیح ہے کہ شہید انبیاء سے بس ایک فتنہ ہی پیچھے ہوں گے "۔
مگر افسوس کہ شہادت یا طبعی موت دونوں کی ہمارے نزدیک کسی اہمیت نہیں رہ گء۔ مگر دوسری طرف انگریز اپنے پرانے اور آزمودہ نسخے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے نسخے سے دوسری بار بھی فیض یاب ہو رہا ہے مگر ہم مسلمان ہو کر دوسری بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے چلے جا رہے ہیں مگر ہماری آنکھیں پھر بھی نہیں کھل رہیں۔
جب قوم میں یہی تقسیم گہری ہو جائے تو دشمن کے لیے وار کرنا بہت سہل ہو جاتا یے۔
قارئین غور کیجیے دشمن ہمیں کتنے ٹکڑوں میں کاٹ چکا ہے ، مذہبی تقسیم، جغرافیائی تقسیم ، لسانی و صوباء تعصب، اور اب وہ مقدور بھر کوشش سے ہمارے عسکری اداروں کے خلاف ہم میں نفرت بھر رہا یے۔
مشرق وسطی کے حالات پہ نظر ڈالیں تو ففتھ جنریشن وار کا سارا کھیل سمجھ میں آ جاتا ہے۔ وہاں بھی مسلکی تقسیم کے بعد عسکری اداروں کو اندرون خانہ الجھا کر نفرت پیدا کی گء اور پھر وہاں اپنا تسلط جمایا۔
حالیہ ایران اسرائیل چپقلش میں ہم نے مسلم ممالک کی بے بسی کی واضح مثال دیکھی، پاکستان الحمداللہ اس دوران بھی اپنے نظریات پہ قائم رہا اور آگے بھی انشااللہ اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔
بس یہ ایک ایموجی کا کھیل جو ہے اس پہ گرفت رکھیے ورنہ یہی ایموجی بم بھی بن سکتا ہے۔
قلمکار۔۔۔ naziaasifadv20@gmail.com