محمد نوید مرزا
لاہور میں ایک طویل مدت کے بعد بسنت کا تین روزہ فیسٹیول منایا جا رہا ہے۔اس ثقافتی میلے کے انعقاد پر جہاں بڑی تعداد میں لاہوری خوش ہیں،وھاں بہت سے مذہبی حلقے شدید ناراض بھی ہیں۔جس میلے کو برسوں پہلے بند کر دیا گیا تھا اور لوگ اسے بھول بیٹھے تھے،آخر اس خونی کھیل کو دوبارہ شروع کرنے کی کیا ضرورت تھی،جب کہ پورا ملک مسائل کا شکار ہے،کہیں بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے تو کہیں سندھ کا شہر کراچی جل رہا ہے۔پنجاب میں کھلے مین ہول لوگوں میں موت بانٹ رہے ہیں تو خیبر پختونخوا کے اپنے ڈھیروں مسائل ہیں۔ایسے عالم میں بسنت کی کیا ضرورت ہے،جس میں سو احتیاطوں کے باوجود بھی جانوں کا ضیاع ہو جاتا ہے۔پھر مذہبی نقطہء نظر سے بھی اس میلے کی کوئی حیثیت نہیں۔
بسنت دراصل موسم بہار میں منایا جانے والا ہندوؤں کا تہوار تھا ،جو پانچویں مہینے ماگھ کی پانچ تاریخ کو ہندو بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔تاریخی طور پر لوگ اس کا تعلق سرسوتی دیوی سے بتاتے ہیں ،جو ہندو مذہب میں آرٹ اور موسیقی کی دیوی کے طور پر مشہور ہے۔تاہم یہ بھی مشہور ہے کہ آج سے سینکڑوں برس قبل چین میں پتنگ بازی شروع ہوئی تھی۔دنیا کی پہلی پتنگ چین کے سپہ سالار ہان سینگ ایک سرنگ کے قریب اڑائی تھی۔اس کے بعد یہ سلسلہ کوریا میں شروع ہوا۔لیکن ہندوؤں نے پیلے لباس پہن کر یہ تہوار اس وقت باقاعدگی سے منانا شروع کیا تھا،جب بادشاہ اورنگ زیب کے دور میں ایک مذھبی جنونی حقیقت رائے نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ والیہہ وسلم کے حوالے سے نازیبا کلمات ادا کئے اور وہ بدکار گستاخ رسول گرفتار ہو گیا اور ہندوؤں کی لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ سزائے موت سے نہیں بچ سکا۔اس بات پر ہندوؤں نے ہر سال اس کی سمادھی پر پتنگ بازی کا میلہ سجانا شروع کر دیا،لیکن اسے بسنت پنچمی کا نام دے دیا گیا۔آج مسلمان اس تہوار کو جس جوش و خروش کے ساتھ منانے جا رہے ہیں۔اس کی مثال شاید پچھلے پچیس سال میں بھی کہیں نہیں ملتی۔اب وقت اور حالات بدل چکے ہیں۔پہلے یہ کسی حد تک شریفانہ میلہ تھا،تاہم اب اس میں نام نہاد جدت ،بے حیائی اور فضول خرچی کا عنصر شامل ہو گیا ہے۔جن کے پاس پیسہ ہے وہ لاکھوں روپے خرچ کر کے اس کھیل کا حصہ بن رہے ہیں۔یوں بھی اب اسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہو گئی ہے تو اب اسے کون روک سکتا ہے۔تاہم دعا کرنی چاہیے کہ جس احتیاط کرنے کا کہا گیا ہے ،ہم عوام اس امتحان سے گزر کر سرخرو ہو جائیں تاکہ یہ تین روزہ فیسٹیول خیر وعافیت سے اپنے اختتام تک پہنچے۔
ویسے عوام کو کوئی نہ کوئی تفریحی کھیل ہر وقت ملتا رہے تو وہ خوش رہتے ہیں۔تاہم ان دنوں شہر لاہور میں ہونے والا بک فئیر ویرانی کا سماں دکھا رہا ہے۔قوم اربوں روپے اس تہوار پر خرچ کرنے جا رہی ہے،لیکن کتابوں سے دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ہم برسوں سے نصابی کتب تک ہی محدود ہیں۔نئی نسل کو کمپیوٹر ،موبائل اور اب آے آئی نامی فر یبی دجال نے ویسے ہی اپنے جال میں جکڑ رکھا ہے۔اس عالم میں ہمارا مستقبل کیا ہو گا۔خدا ہی جانتا ہے۔ہمیں اپنی اصل تہذیب کی طرف لوٹنے کی کوشش کرنی چاہیے۔نوجوان نسل کتاب سے محبت اور اخلاقیات کا درس دینے کی ضرورت ہے۔لیکن ہم بڑوں میں بھی تو پہلی سی رواداری نہیں رپی۔بسنت کے جاتے ہی ویلنٹائن ڈے کی آمد ہے۔اگلے چند دن میں ہمیں ایک نیا فیسٹیول ملنے والا ہے۔اے لاہورہو زندہ رہو پائیندہ رہو۔خدا حافظ