دریائے سندھ میں پانی کے بحران کا 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

دریائے سندھ میں پانی کے بحران کا 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

رواں برس بارشوں میں کمی کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح تاحال کم ہے، جس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے سبب ملک میں بارشیں 40 فیصد تک کم ہو چکی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، بارشوں کی 40 فیصد تک کمی کے باعث دریائے سندھ میں پانی کے بحران کا 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق، سکھر بیراج پر پانی کی کمی 71 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور تینوں بیراجوں پر مجموعی طور پر 65 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے۔محکمہ آبپاشی کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ برس اپریل کے پہلے ہفتے میں سکھر بیراج پر پانی کی قلت 39 فیصد تھی، جو اس سال 71 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح تینوں بیراجوں پر مجموعی طور پر پانی کی کمی 37 فیصد سے بڑھ کر 65 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اس بحران سے زرعی پیداوار اور آبی ضروریات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔