انگلش چینل میں ایک ہی ربڑ کی کشتی پر سوار تقریباً 140 تارکین وطن کو ریسکیو کرلیا گیا۔ کشتی نے فرانس کے نارمنڈی ساحل سے سفر شروع کیا تھا اور برطانوی حدود میں پہنچنے کے بعد مدد طلب کی۔
فرانسیسی کوسٹ گارڈ کے مطابق تارکین وطن کو برطانیہ کی رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن (RNLI) کی دو کشتیوں نے ریسکیو کیا، جس کے بعد انہیں برطانوی ساحل پر پہنچا دیا گیا۔حکام کے مطابق فرانسیسی ریسکیو کشتیاں تقریباً 10 گھنٹے تک تارکین وطن کی کشتی کی نگرانی کرتی رہیں۔ سمندر میں کشتی کو روکنے کی کوشش خطرناک قرار دی گئی، اس لیے اسے برطانوی حدود تک پہنچنے دیا گیا، جہاں بیمبرج اور یارماؤتھ سے آنے والی لائف بوٹس نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ کشتی نے خلیجِ سین کے علاقے سے سفر شروع کیا تھا، جو کیلے کے قریب تارکین وطن کی کشتیوں کے معمول کے روانگی کے مقامات سے تقریباً 170 میل دور ہے۔ اس کے باعث برطانیہ تک پہنچنے کے لیے سفر معمول سے کہیں زیادہ طویل رہا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے چند روز قبل چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی آمدورفت روکنے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے پر بات چیت کی تھی۔
دوسری جانب اتوار کی رات پورٹس ماؤتھ میں ایسٹنی لینڈنگ فیری پورٹ کے قریب پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، جہاں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے افراد کو ساحل پر لایا گیا تھا۔اس سے ایک روز قبل ڈوور بندرگاہ پر نقاب پوش افراد کے ایک بڑے گروپ نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے تارکین وطن کی آمد کے خلاف احتجاج کیا، جس کے باعث بندرگاہ کی معمول کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق اگست میں ایک ہی چھوٹی کشتی کے ذریعے ریکارڈ 230 افراد نے انگلش چینل عبور کرکے برطانیہ پہنچنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔