رمضان میںبڑھتی مہنگائی: ایک سماجی بحران

ڈاکٹر جمشید نظر

اسلام میں ذخیرہ اندوزی کرکے ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے لئے ایک خاص لفظ احتکار کا استعما ل کیاجاتا ہے یعنی اشیاء ضروریہ کا اس لئے ذخیرہ کرناتا کہ مصنوعی قلت پیدا ہو اور بعد میں منہ مانگے دام وصول کیے جائے جسے عرف عام میں مہنگائی کہتے ہیں۔رمضان المبارک کا مہینہ جیسے ہی شروع ہوتا ہے اشیاء خورو نوش کی ذخیرہ اندوزی کے ساتھ لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔ منافع خور مختلف قسم کی اشیاء کی قیمتوں میں تین گناسے زائد کا اضافہ کر کے رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ ذخیرہ انداوزی اورناجائز منافع خوری کی وباء پاکستان کی ابتداء سے اس معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے جو اب تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔یہ وباء اس وقت زیادہ زور پکڑتی ہے جب ملک میں کوئی مذہبی تہوار آجائے یا ملک کسی مصیبت ،آفت کا شکار ہو تب یہ مخصوص مافیا اپنا بچھائے ہوئے جال میں لوگوں کو جکڑنا شروع کردیتا ہے حالانکہ غیر مسلم اپنے مذہبی تہواروں کے موقع پر خوردو نوش کی اشیاء کی قیمتوں میں جہاں کمی کا اعلان کرتے ہیں تو وہاں اشیاء بھی وافر مقدار میں دستیاب کرتے ہیںلیکن ہم کیا کرتے ہیں جیسے ہی ماہ رمضان قریب آتا ہے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دگنی کر دیتے ہیں،جو پھل ماہ رمضان سے قبل100سے200  روپے کی قیمت پر فروخت ہورہا ہوتا ہیں وہیں اس کی قیمت 200 سے300روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح کی ناجائز منافع خوری کی وجہ سے دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پاتی۔
یہ بات سب بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام میں ذخیرہ اندوزی کرکے مصنوعی طور پر قلت پیدنا کرنا اور پھر دگنے دام پر بیچنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے لیکن پھر بھی ہم اس فعل کو کھلے عام سرانجام دینے میں ذرا بھی شرم محسوص نہیں کرتے۔اس حوالے سے بہت سی احادیث ہیں۔حضرت معمرؓسے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذخیرہ کرنے والا خطا کار ہے۔حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے مسلمانوں کے خلاف غذائی اجناس کا ذخیرہ اندوزی کی اللہ تعالیٰ اس پر ،غربت افلاس اور جذام کی بیماری مسلط کردینگے۔ ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے ، سورہ مطففین اسی کے متعلق نازل ہوئی ، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم شرک کے ساتھ ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐنے فرمایا: جو شخص کھانے پینے کی چیزوں میں ذخیرہ اندوزی کرکے مسلمانوں پر مہنگائی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کوڑھ کے مرض میں مبتلاء کر دیتے ہیں (رواہ ابن ماجہ) جبکہ دوسری حدیث میں حضرت امامہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ؐنے فرمایا:جو شخص چالیس دن تک غلہ مہنگائی کے لحاظ سے ذخیرہ کرے پھر غلطی کا احساس ہونے پر وہ تمام غلہ صدقہ کر دے پھر بھی اس کی غلطی کا کفارہ ادا نہیں ہوتا۔ان تمام ارشادات نبویہ اور تعلیمات اسلامی کے پیش نظر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ذخیرہ اندوزی کتنا گھناؤنا فعل ہے اور سب سے افضل ماہ رمضان میں اس گناہ کی کس قدر سزا ہوگی اس بات کا فیصلہ اب سب نے خود کرنا ہے کہ آخرت کی پونجی لٹا کر دنیاوی دولت حاصل کر نے والے کتنے منافع میں ہیں؟ سوچئے اس سے پہلے کہ سوچنے کا بھی موقع نہ ملے۔