تنخواہ دار طبقے سے ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ کے مقابلے میں 90 ارب روپے زیادہ ٹیکس وصولی

تنخواہ دار طبقے سے ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ کے مقابلے میں 90 ارب روپے زیادہ ٹیکس وصولی

اسلام آباد: رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران تنخواہ دار طبقے نے 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ شعبوں کی مجموعی ٹیکس ادائیگی سے 90 ارب روپے زیادہ ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران رئیل اسٹیٹ شعبے سے انکم ٹیکس وصولی میں 38 فیصد کمی ہوئی اور یہ 35.2 ارب روپے رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں رئیل اسٹیٹ شعبے سے تقریباً 57 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔رواں مالی سال حکومت کی جانب سے جائیداد کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کے باعث ٹیکس وصولی میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد جبکہ خریداری پر شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردی گئی۔نتیجتاً جائیداد کی فروخت پر ٹیکس وصولی 39.5 ارب روپے سے کم ہوکر 23 ارب روپے جبکہ خریداری پر ٹیکس وصولی 17.7 ارب روپے سے کم ہوکر 12.2 ارب روپے رہ گئی۔دوسری جانب ہول سیل اور ریٹیل شعبوں سے حاصل ہونے والی ودہولڈنگ ٹیکس وصولی تقریباً مستحکم رہی۔ دونوں شعبوں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 18.4 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 1.3 فیصد زیادہ ہے۔

ہول سیل شعبے سے ٹیکس وصولی 6.2 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 701 ملین روپے کم ہے، جبکہ ریٹیل شعبے سے 11.3 ارب روپے وصول ہوئے، جو 945 ملین روپے یا 8.3 فیصد زیادہ ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ شعبوں کی مجموعی انکم ٹیکس ادائیگی 54 ارب روپے رہی، جبکہ تنخواہ دار طبقے نے اسی عرصے میں 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ یوں تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی دونوں شعبوں کی مجموعی ادائیگی سے 90 ارب روپے زیادہ رہی۔ٹیکس حکام کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس وصولی گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 13.4 ارب روپے یا 10.2 فیصد بڑھ کر 144 ارب روپے ہوگئی۔

حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 52 ارب روپے کا ریلیف دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس میں ٹیکس شرح میں 3 فیصد تک کمی، 9 فیصد سرچارج کا خاتمہ اور 35 فیصد کی زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح کے اطلاق کی سالانہ آمدن کی حد 4.1 ملین روپے سے بڑھا کر 7 ملین روپے کرنا شامل تھا۔اعداد و شمار کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام شروع ہونے سے قبل تنخواہ دار طبقے کی سالانہ ٹیکس ادائیگی 391 ارب روپے تھی، جو دو مالی سال کے دوران بڑھ کر رواں سال جون تک 629 ارب روپے تک پہنچ گئی۔دوسری جانب حکومت نے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مقررہ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی، تاہم ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق ریٹیل شعبے کی ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ نہیں ہوسکا۔