اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے اور تنخواہوں و پینشن میں اضافے پر مشروط رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم اس ریلیف کے بدلے ریونیو کے نقصانات کی تلافی کیلئے نئے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق اہم نکات:
حکومت اگر تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دیتی ہے تو اس سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے بڑے پنشنرز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت اس تجویز پر شدید سیاسی و عوامی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ پنشنرز پر ٹیکس کا فیصلہ شدید ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
تنخواہوں میں اضافے کی تجویز
آئندہ بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور ٹیکس میں نرمی کی تجویز دی گئی ہے۔آئی ایم ایف نے اس پر بھی اخراجات میں کمی اور اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی شرط کے ساتھ مشروط رضامندی ظاہر کی ہے۔
آئی ایم ایف کی دیگر شرائط
غیر ضروری سبسڈیز ختم کی جائیں
غیر ضروری ٹیکس چھوٹ واپس لی جائے
سرکاری اخراجات میں کٹوتی کی جائے
مالی گنجائش کیلئے نئے ریونیو ذرائع پیدا کیے جائیں
دفاعی بجٹ پر مؤقف
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کو پاکستان کے دفاعی بجٹ پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اور وہ اس شعبے کو بجٹ کٹوتیوں سے مستثنیٰ رکھنا قبول کرتا ہے۔
حکومت کی مشکل صورتحال
یہ تمام شرائط حکومت کیلئے سیاسی و انتظامی چیلنج بن چکی ہیں۔ایک طرف عوامی دباؤ کے تحت تنخواہیں بڑھانا اور ٹیکس کم کرنا ضروری ہے، تو دوسری جانب آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا بھی لازم ہے تاکہ پاکستان کا نیا مالیاتی معاہدہ بروقت طے پا سکے۔