لاہور میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں جسے ہر فورم پر "سندھو دیش" کہا جائے۔
عظمیٰ بخاری نے نشاندہی کی کہ پیپلز پارٹی کے بعض رہنما تضادات کا مظاہرہ کر رہے ہیں — ایک طرف وہ سیز فائر کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ہر گھنٹے بعد ہوائی فائرنگ جیسی کارروائیاں ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ محض شعلۂ بیانیہ اور الفاظ کے زور پر مائیک کے سامنے بیٹھ کر نعرے بازی کرتے ہیں، ایسے بیان بازی کے بعد مفاہمت کی بات کیسے کی جا سکتی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب حکومت یا لیڈرشپ کا جواب دیا جاتا ہے تو پیپلز پارٹی کے رہنما رونے لکھنے لگتے ہیں، مگر مسلسل اشتعال انگیزی کے بعد تھوڑا سا ردعمل آنا فطری ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ جمہوریت کا لیکچر نہ دیں کیونکہ جمہوری ذمہ داری اٹھانے کا ثبوت ان کے کندھوں پر موجود نہیں۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی اور لیڈرشپ نے ذاتی حملوں کے باوجود ضبط و برد کا مظاہرہ کیا، اور واضح کیا کہ "سندھ کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں"۔