لندن (نیٹ نیوز)موجودہ عہد میں بیشتر والدین اپنے کاموں یا مصروفیت کے دوران بچوں کو خاموش کرانے یا ایک جگہ تک محدود رکھنے کے لیے اسمارٹ فون یا ٹیبلیٹ دے دیتے ہیں۔مگر ماہرین کی جانب سے اس عادت کو بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے۔برطانوی تخت کے ولی عہد شہزادہ ولیم بھی یہی سوچتے ہیں۔ایپل ٹی وی پلس کی ایک سیریز میں شرکت کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بچوں 12 سالہ شہزادہ جارج، 10 سالہ شہزادی شیرولیٹ اور 7 سالہ شہزادہ لوئس کو اسمارٹ فونز رکھنے کی اجازت نہیں۔43 سالہ شہزادہ ولیم نے بتایا کہ ہم سب اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور بات چیت کرتے ہیں، یہ بہت اہم ہے، ہمارے کسی بچے کے پاس فون نہیں، ہم اس حوالے سے بہت زیادہ سخت ہیں۔سیریز کے میزبان یہ بات سن کر حیران رہ گئے اور انہوں نے شہزادہ ولیم سے پوچھا تو پھر ان کے بچے کیا کھیلتے ہیں، اگر ان کے پاس اسمارٹ فونز نہیں؟اس پر شہزادہ ولیم نے بتایا کہ 'لوئس کو ٹریمپولین پسند ہے جبکہ شیرولیٹ بھی اس پر اچھلنا پسند کرتی ہے، شیرولیٹ کو نیٹ بال کھیلنا اور رقص کرنا بھی پسند ہے، تو انہیں کھیلوں میں مصروف رکھنا اور باہر کی دنیا میں رہنے دینا بہت ضروری ہے، وہ موسیقی سیکھتے ہیں، جارج کو فٹبال اور ہاکی سے محبت ہے'۔انہوں نے کہا کہ وہ بچوں کو گریجویشن تک فون رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، جب وہ یونیورسٹی جانے اور ماہانہ بل ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو پھر وہ فون بھی رکھ سکیں گے۔ونڈسر کیسل کے ٹور کے موقع پر شہزادہ ولیم نے بتایا کہ وہ کئی بار اپنے بچوں کو سینٹ جارج ہال بھی لے جاتے ہیں جہاں وہ گھنٹوں تک دوڑتے رہتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 'تو اب کافی کچھ آسان ہوگیا ہے، میرے بچوں کو احساس نہیں کہ وہ کتنے خوش قسمت ہیں، ان کے پاس ایک بڑا پرانا قالین ہے جس پر وہ دوڑ سکتے ہیں، یہاں لکڑی کے ٹکڑے نہیں، تو ہم یہاں اکثر ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہیں'۔شہزادہ ولیم نے کہا کہ خاندان ان کی زندگی کا اہم ترین حصہ ہے، برطانوی تخت کے ولی عہد ہونے کے باوجود وہ بچوں کو اسکول چھوڑنے اور لینے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'کام اور خاندان میں توازن زندگی کے لیے بہت ضروری ہے اور خاندان میری زندگی کا اہم ترین حصہ ہے اور سب کچھ مستقبل کے لیے ہے جبکہ یہ سب اس بارے میں ہے کہ بچے خوش باش، صحت مند اور مستحکم گھر میں رہے'۔