اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ان کے خیال میں بہتر ہوگا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں جوڈو یا کراٹے جیسی سخت تربیت ہو، تاکہ سیاسی میدان میں مضبوطی ظاہر کی جا سکے۔
ان کے مطابق جب وہ پاکستان واپس آئے تو ان کا نام ملزموں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا اور آج انہیں اڈیالہ جیل میں پیشی کے باوجود جیل کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی — ایک ایس ایچ او نے انہیں دایگل ناکے پر آدھا گھنٹہ روکے رکھا۔ انہوں نے یہ بھی شکایت ظاہر کی کہ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ وہاں انتظار کریں۔شیخ رشید نے بھارت کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ بھارت کا "دماغ خراب ہے" اور اسے ایسی سزا دی جانی چاہیے جو "قیامت تک یاد رہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا تو پھر وہاں "نہ مندر کی گھنٹیاں بجیں گی، نہ چڑیا چہکے گی اور نہ گھاس اُگے گی" — دنیا خود اس کا مشاہدہ کرے گی۔