اوپن مارکیٹ میں پھلوں کی قیمتیں شہریوں کی پہنچ سے باہر ہونے لگیں، متعدد پھل سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ موسمی سبزیاں سرکاری نرخوں پر دستیاب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
شہریوں نے انتظامیہ سے سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مارکیٹ میں روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں فرق سامنے آیا ہے۔ برائلر گوشت کی سرکاری قیمت 577 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ صافی گوشت 640 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح انڈوں کی سرکاری قیمت 256 روپے فی درجن مقرر کی گئی ہے، تاہم دکانوں پر انڈے 265 روپے فی درجن فروخت کیے جا رہے ہیں۔
پھلوں کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے تجاوز کر گئیں
مارکیٹ میں پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ پپیتا 280 روپے کے سرکاری نرخ کے بجائے 350 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ کھجور کی قیمت 600 روپے فی کلو ہے۔ناشپاتی کی سرکاری قیمت 440 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود 550 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کیلا 160 روپے فی درجن کے بجائے 180 روپے، امرود 235 روپے کے بجائے 300 روپے فی کلو جبکہ قندھاری انار 620 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 800 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔انگور کی قیمت بھی 900 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کے لیے پھلوں کی خریداری مزید مشکل ہو گئی ہے۔
موسمی سبزیاں کن نرخوں پر دستیاب ہیں؟
دوسری جانب مارکیٹ میں موسمی سبزیاں نسبتاً سرکاری نرخوں پر دستیاب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ میتھی 100 روپے، ٹماٹر 205 روپے، شملہ مرچ 220 روپے، مٹر 300 روپے، گھیا کدو 160 روپے اور بھنڈی 150 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
شہریوں کا انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
شہریوں کا کہنا ہے کہ پھلوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عام آدمی کے لیے روزمرہ خریداری مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری نرخ نامے جاری ہونے کے باوجود دکانداروں کی جانب سے زائد قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔