لاہورمیں سبزیوں، پھلوں، برائلر گوشت اور انڈوں کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہونے لگیں، جبکہ متعدد دکاندار سرکاری نرخ نامے نظر انداز کرتے ہوئے اشیائے خورونوش من مانے داموں فروخت کر رہے ہیں۔
سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے فرق کے باعث شہریوں کو روزمرہ خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔مارکیٹ میں مختلف سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب برائلر گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی سرکاری نرخ نامے کے مقابلے میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔
سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں فرق
لاہور کی مارکیٹوں میں سبزیوں کی فروخت سرکاری نرخ نامے کے مطابق نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ دستیاب قیمتوں کے مطابق میتھی 100 روپے کے بجائے 130 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ گھیا توری کی سرکاری قیمت 120 روپے مقرر ہونے کے باوجود صارفین کو 150 روپے فی کلو ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ٹماٹر 130 روپے کے بجائے 140 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ دیسی لہسن کی قیمت میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ دیسی لہسن کا سرکاری نرخ 230 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 400 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ادرک 375 روپے کے بجائے 400 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی فرق دیکھا گیا ہے۔ شوگر فری آلو 45 روپے کے بجائے 80 روپے فی کلو، شملہ مرچ 160 روپے کے بجائے 200 روپے اور مٹر 330 روپے کے بجائے 440 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔بھنڈی کی سرکاری قیمت 150 روپے فی کلو ہونے کے باوجود صارفین کو 240 روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ بینگن 80 روپے کے بجائے 120 روپے اور دیسی ٹینڈے 160 روپے کے بجائے 210 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں۔
پھل بھی سرکاری نرخوں سے مہنگے
سبزیوں کے ساتھ پھلوں کی مارکیٹ میں بھی سرکاری نرخوں اور دکانداروں کی جانب سے وصول کی جانے والی قیمتوں میں فرق سامنے آیا ہے۔ناریل کی سرکاری قیمت 485 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود 650 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ پپیتا 280 روپے کے بجائے 350 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ درجہ اول کیلے کی سرکاری قیمت 160 روپے فی درجن ہونے کے باوجود صارفین سے 180 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔شکر قندی 90 روپے کے بجائے 110 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ مسمی کی سرکاری قیمت 165 روپے فی درجن ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 200 روپے فی درجن وصول کیے جا رہے ہیں۔اسی طرح امرود 240 روپے کے بجائے 300 روپے فی کلو، قندھاری انار 570 روپے کے بجائے 700 روپے اور انگور 660 روپے کے بجائے 900 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ان قیمتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد پھلوں کی خریداری کے لیے بھی شہریوں کو مقررہ سرکاری نرخوں سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔
برائلر گوشت اور انڈوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں
دوسری جانب گوشت اور انڈوں کی قیمتوں نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ دستیاب نرخوں کے مطابق برائلر کی سرکاری قیمت 563 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم صافی برائلر گوشت 660 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔اس طرح سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی قیمت کے درمیان 97 روپے فی کلو کا فرق سامنے آیا ہے۔انڈوں کی سرکاری قیمت 239 روپے فی درجن مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 248 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، یعنی صارفین کو فی درجن 9 روپے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
شہری پریشان، سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد کا مطالبہ
اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اس فرق نے شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ خصوصاً متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کو محدود بجٹ میں سبزیاں، پھل، گوشت اور دیگر ضروری اشیا خریدنے کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔شہریوں کے لیے اہم مسئلہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ سرکاری نرخ نامے اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان فرق بھی ہے۔ اگر مقررہ نرخوں پر عمل درآمد نہ ہو تو صارفین کے لیے مناسب قیمت پر ضروری اشیا کی خریداری مشکل ہو جاتی ہے۔قیمتوں پر مؤثر نگرانی، سرکاری نرخ نامے کی پابندی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے متعلقہ حکام کی کارروائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔