لاہور: محبت، رومانس، کامیڈی، موسیقی اور ایکشن کے رنگوں سے سجی نئی پنجابی فلم ’عاشق رنگ رنگیلے‘ کا گرینڈ پریمیئر لاہور کے مقامی سینما گھر میں شاندار انداز میں منعقد ہوا، جس میں شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف شخصیات، فلم کی کاسٹ، ہدایت کاروں، پروڈیوسرز اور فلم بینوں نے شرکت کی۔
فلم کے پریمیئر کے موقع پر ریڈ کارپٹ تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں شرکاء نے فلمی ستاروں کا استقبال کیا اور ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ تقریب میں ملک ریاض، ندیم چیمہ، آئی ایم جی سی کے ڈائریکٹر عابد شیخ اور گوشی خان سمیت دیگر معروف شخصیات موجود تھیں۔
ماں پروڈکشن کے بینر تلے فلم کی تیاری
پنجابی فلم ’عاشق رنگ رنگیلے‘ ریاض ملک کے ادارے ماں پروڈکشن کے بینر تلے تیار کی گئی ہے، جبکہ فلم کی ہدایات بھی ریاض ملک نے دی ہیں۔فلم میں عباس اشرف، بشریٰ گلفام، ہنی شہزادی، افتخار ٹھاکر، قیصر پیا اور وکی کوڈو سمیت متعدد معروف فنکاروں نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔ فلم کی کاسٹ میں شامل فنکاروں نے اپنی اداکاری کے ذریعے کہانی میں مزاح، جذبات اور تفریح کے مختلف رنگ پیش کیے ہیں۔
محبت، مزاح اور موسیقی کا امتزاج
’عاشق رنگ رنگیلے‘ ایک کامیڈی میوزیکل لو اسٹوری ہے، جس میں محبت، رومانس، مزاح، جذبات اور ایکشن کو یکجا کیا گیا ہے۔ فلم کی کہانی میں بیٹی کی لازوال محبت اور بے مثال جذباتی رشتے کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جو کہانی کو ایک خاص جذباتی پہلو فراہم کرتا ہے۔دلچسپ مکالموں، موسیقی اور معروف فنکاروں کی پرفارمنس سے سجی اس فلم کو شائقین کے لیے بھرپور تفریحی پیشکش قرار دیا جا رہا ہے۔
فلم بینوں کی جانب سے پذیرائی
پریمیئر شو میں شریک فلم بینوں نے فلم کی پیشکش، فنکاروں کی اداکاری اور کہانی کو سراہا اور اسے پنجابی سینما کے لیے ایک اچھی کاوش قرار دیا۔اس موقع پر فلمی حلقوں کا کہنا تھا کہ پاکستانی سینما کو اس وقت ایسی معیاری فلموں کی ضرورت ہے جو عوامی دلچسپی کے موضوعات کے ساتھ بھرپور تفریح بھی فراہم کر سکیں۔ ان کے مطابق ’عاشق رنگ رنگیلے‘ میں کامیڈی، موسیقی، محبت کی کہانی اور معروف فنکاروں کی موجودگی جیسے عناصر شامل ہیں، جو فلم کو شائقین کے لیے دلچسپ بنا سکتے ہیں۔فلمی حلقوں کا مزید کہنا تھا کہ عباس اشرف، بشریٰ گلفام، ہنی شہزادی، افتخار ٹھاکر، قیصر پیا اور وکی کوڈو کی اداکاری فلم کی اہم خصوصیات میں شامل ہے، جبکہ ان فنکاروں کی پرفارمنس شائقین کی توجہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پنجابی سینما کے لیے نئی امید
فلمی مبصرین کے مطابق پاکستانی سینما کی رونقیں بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف موضوعات اور زبانوں میں معیاری فلمیں بنائی جائیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ شائقین سینما گھروں کا رخ کریں۔