لاہور میں دو غیرقانونی کال سینٹرز پر چھاپے، 28 ڈیجیٹل ڈیوائسز برآمد، مزید تحقیقات شروع
لاہور (کرائم رپورٹر) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور زون نے بین الاقوامی موبائل ٹیلی کام فراڈ میں ملوث دو غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 10 مردوں اور دو خواتین سمیت 12 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائیوں کے دوران 13 لیپ ٹاپ، دو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور 13 موبائل فونز سمیت مجموعی طور پر 28 ڈیجیٹل ڈیوائسز برآمد کی گئیں۔ دونوں مقامات پر چھاپوں کی سربراہی اور نگرانی ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاہور زون عاطف امیر نے خود کی اور وہ ٹیموں کے ہمراہ موقع پر بھی موجود تھے۔ این سی سی آئی اے ٹیموں نے مصدقہ اطلاعات اور مجاز عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد باٹا پور میں قائم ’’سلوشن ہب‘‘ اور پنجاب ہائوسنگ سوسائٹی لاہور میں قائم ’’ٹاسک ٹیکر‘‘ نامی کال سینٹرز پر چھاپے مارے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں کال سینٹرز کے ذریعے کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک کے شہریوں کو موبائل فون اپ گریڈ، نیٹ ورک پیکجز اور سم آفرز کے نام پر دھوکہ دیا جا رہا تھا۔ ملزمان معروف ٹیلی کام کمپنیوں راجرز، بیل، ٹیلس اور اے ٹی اینڈ ٹی کے نمائندے ظاہر کرکے شہریوں سے مالی معلومات حاصل کرتے اور غیرقانونی مالی لین دین سمیت کارڈنگ فراڈ میں ملوث تھے۔ پہلی کارروائی میں ایک خاتون ارسلہ طاہر اور چھ مردوں، محمد سمیر طاہر، حسین رضوان، عبدالرحمان، عمر خالد، سید علی مرتضیٰ اور صہیب علی کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دوسری کارروائی میں ایک خاتون عائشہ مزمل اور چار مردوں، معظم سلطان، زین اشرف، زین اور محمد فیصل کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی جانچ کے دوران برآمد ہونے والے کمپیوٹرز اور موبائل فونز میں غیرملکی شہریوں کو کالز کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ڈائل اَپ سافٹ ویئر اور متعلقہ ڈیٹا بھی سامنے آیا۔ تمام ڈیجیٹل ڈیوائسز قبضے میں لے کر مزید فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دی گئی ہیں۔ این سی سی آئی اے نے دونوں کارروائیوں کے نتیجے میں مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاہور زون عاطف امیر نے کہا کہ غیرقانونی کال سینٹرز، بین الاقوامی ٹیلی کام فراڈ اور شہریوں کی مالی معلومات کا ناجائز استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔