مہنگا آٹا، میدہ اور بھاری چالان کے خلاف نان بائیوں کی ہڑتال

ڈیڑھ سال میں آٹے کی بوری 5500  سے بڑھ کر 11 ہزار تک پہنچ گئی
 تمام چھوٹے بڑے تندور مکمل طور پر بند رہے،شہری ناشتہ کیے بغیر دفاتر روانہ ہوئے
راولپنڈی (آئی این پی)  مہنگا آٹا، میدہ اور بھاری چالان کے خلاف نان بائیوں کی ہڑتال  ، شہر بھر کے تمام چھوٹے بڑے تندور مکمل طور پر بند رہے۔شہری نان، روغنی نان اور پراٹھے نہ ملنے کے باعث ناشتہ کیے بغیر دفاتر اور اسکول روانہ ہوئے، جبکہ چھوٹے ہوٹلوں اور ریڑھی بانوں کے کاروبار بھی متاثر ہوگئے۔ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور نان بائی ایسوسی ایشن کے درمیان رابطے بحال ہوگئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد  پیش رفت  متوقع ہے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مذاکرات کے دوران گرفتاریاں نہیں کی جائیں گی۔ہڑتال کے باعث بیکریوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ ڈبل روٹی، بن اور شیرمال کی فروخت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر شفیق قریشی کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سال میں آٹے کی بوری 5500 روپے سے بڑھ کر 11 ہزار روپے اور میدہ 6200 روپے سے 12 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سوئی گیس کی فراہمی نہ ہونے کے باوجود بل لاکھوں روپے تک آتے ہیں جبکہ کمرشل گیس سلنڈر 15 ہزار روپے کا ہوگیا ہے۔