فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیا جائے گا، فیلڈ مارشل کو آئینی اختیارات بھی دیئے جائیں گے‘ججوں کی تقرری میں صدر، وزیراعظم کا کردار کم کر کے جوڈیشل کمیشن کا بڑھایا جائیگا
چیف الیکشن کمشنر کے تقرر میں ڈیڈ لاک کی صورت میں معاملہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا، سینٹ پیر یا منگل کو ترمیم کی منظوری دے گی،اسی روز قومی اسمبلی میں پیش ہوگی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آن لائن)وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے قانونی مسودے کا خاکہ تیار کرلیا، ایک نجی ٹی وی نے مجوزہ مسودے کی تفصیلات حاصل کرلیں۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کی جگہ نو رکنی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے ججوں کی عمر کی بالائی حد 68 سے 70 سال تک کرنے کی تجویز ہے۔مسودے کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے تقرر میں ڈیڈ لاک کی صورت میں معاملہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری میں صدر، وزیراعظم کا کردار کم کر کے جوڈیشل کمیشن کا بڑھایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی بلدیاتی اداروں کو آئینی طور پر مزید بااختیار بنانے پر تیار نہیں، بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات دینے کے حوالے سے تجویز پر مزید مشاورت کی جائے گی،ذرائع نے بتایا کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیا جائے گا، فیلڈ مارشل کو آئینی اختیارات بھی دیئے جائیں گے، مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل کا ٹائٹل تاحیات رہے گا۔ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کو صوبوں کے شیئر سے مزید دس فیصد حصہ دینے کی تجویز ہے جب کہ تعلیم اور صحت کے شعبے وفاق کو دینے پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔دریں اثناء آئین میں 27ویں ترمیم کے معاملے پر آئینی ترمیم کی شقوں پر غور کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ زرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم آج سینٹ میں پیش کی جائے گی۔سینٹ کا ایوان ترمیم پر غور کے لئے قومی اسمبلی کے ساتھ مشترکہ کمیٹی کی منظوری دے گا۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین سینٹ کمیٹی کے لئے سپیکر قومی اسمبلی سے نام لیں گے، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی صدارت فاروق ایچ نائیک کریں گے، پارلیمانی کمیٹی کو ستائیسویں ترمیم پر غور کے لئے دو دن کا وقت دیا جائے گا، پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس ہفتہ اور اتوار کو بھی ہوں گے،پیر کو سینٹ میں پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوگی، سینٹ پیر یا منگل کو آئینی ترمیم کی منظوری دے گی،اسی روز ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کردی جائے گی، ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی بحث کے بعد بدھ یا جمعرات تک ترمیم منظور کرلے گی۔