راسک، چابہار اور پارود کے علاقوں میں مارے جانے والے خودکش بمبار تھے جو پٹرول ٹینکرز کی آڑ میں ایران میں داخل ہوئے تھے،کمانڈرپاسداران انقلاب
ہمارے پاس تفصیلی معلومات ہیں کہ دشمن کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان گروہوں کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور
تہران (آئی این پی)ایران نے کہا ہے کہ سیستان-بلوچستان میں سکیورٹی آپریشنز میں 18افغان تاجک شدت پسند مارے گئے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے ایران کے شہر زاہدان میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ راسک، چابہار اور پارود کے علاقوں میں مارے جانے والے خودکش بمبار تھے جو پٹرول کے ٹینکرز کی آڑ میں ایران میں داخل ہوئے تھے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ کرائے کے جنگجو صیہونی حکومت کی مدد سے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں موجود ہیں۔ ان جنگجوئوں نے ملک کے جنوب مشرق میں ہمارے لوگوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں۔بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تفصیلی معلومات ہیں کہ دشمن کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان گروہوں کو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔تاہم ایران کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق کس گروہ سے تھا۔یہ پہلی دفعہ ہے کہ کسی ایرانی فوجی اہلکار نے ملک کی سر زمین پر افغان تاجک نژاد شدت پسند گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔