تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ایک بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔
تنظیم کے رہنماؤں نے اپنے اہم اجلاس میں موجودہ ملکی صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی اور بھارتی حملے کے نتیجے میں معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔اعلامیہ کے مطابق، تحریک تحفظ آئین کے قائدین نے ملکی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس کی آئندہ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ رات کی تاریکی میں کیے گئے بھارتی حملے کو انتہائی بزدلانہ فعل قرار دیا گیا اور اس حملے میں معصوم شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد صرف اور صرف پاکستان ہے اور وہ ملک کی خودمختاری کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پارٹی رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے دشمن کی جانب سے کیے جانے والے حملے کا بھرپور جواب دینا ضروری ہے، اور ان کے لیے مادر وطن کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ تمام سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر پارلیمنٹ میں قومی یکجہتی کے لیے قرارداد منظور کی گئی، جس میں پیغام دیا گیا کہ ملک کی خاطر ہم سب ایک ہیں۔ تحریک تحفظ آئین نے کہا کہ اس موقع پر، جب دشمن ملک پر حملہ کر رہا ہے، حکومتی حلقے اپوزیشن کو دیوار میں چننے کی کوشش کر رہے ہیں اور آل پارٹیز کانفرنس کو منسوخ کروا دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے مکمل سنسر شپ نافذ کر دی گئی ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اڈیالہ جیل کے باہر بانی چیئرمین کی ہمشیرہ اور ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ہونے والے سلوک کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت اگر ملک میں جاری مسائل کا سنجیدگی سے حل چاہتی ہے تو اسے سب سے مقبول لیڈر پر قائم جعلی مقدمات ختم کر کے انہیں فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ نواز شریف اور وزیراعظم سمیت کسی حکومتی رکن نے مودی کے بارے میں بات تک نہیں کی، اور مودی کو جواب دینے کی جرات ایک بہادر اور دلیر رہنما ہی کر سکتا ہے۔
4o mini