اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور قومی سیاسی و جمہوری قیادت صوبے کے حالات سے لاتعلق ہونے کے بجائے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
صنوبر انسٹیٹیوٹ کے قومی ڈائیلاگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مسائل اور حالات مختلف نوعیت کے ہیں، اس لیے دونوں صوبوں کے معاملات کو الگ الگ تناظر میں سمجھنے اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دیا کہ قومی سیاسی قیادت بلوچستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے اور صوبے کے معاملات کو قومی سیاسی مکالمے کا حصہ بنایا جائے۔
قومی سیاسی قیادت بلوچستان سے لاتعلق نہ رہے
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ قومی سیاسی اور جمہوری قیادت کو بلوچستان سے خود کو بالکل لاتعلق نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبے کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور بلوچستان کے مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات، صوبائی حقوق پر گفتگو
نائب امیر جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات کی، جس میں صوبے کو درپیش مسائل اور ان کے حل سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبوں کے حقوق اور حقِ ملکیت کے آئینی اصول کو کسی صورت پامال نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے صوبائی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔لیاقت بلوچ نے اس کے علاوہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وفاقی وزراء اسد عمر، فواد چوہدری، دانیال عزیز، ندیم افضل چن اور خرم دستگیر سے بھی ملاقاتیں کیں۔
1958 کے بعد سے ملک مسلسل سیاسی تجربات کا شکار ہے، لیاقت بلوچ
لیاقت بلوچ نے ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1958 کے بعد سے مسلسل تجربات کی بھٹی میں جھونکا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوری قیادت، چاہے وہ فارم 45 کے حوالے سے پہچانی جاتی ہو یا فارم 47 کے حوالے سے، آئینی حدود کی پروا نہیں کرتی۔ ان کے بقول ملک میں آئینی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے عوام کی معاشی مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مسلسل غربت کی لکیر سے نیچے گرتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی اور معاشی دباؤ نے عام شہریوں کے لیے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں تاخیر پر تشویش
نائب امیر جماعت اسلامی نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں تاخیر اپوزیشن کو مزید کمزور کر رہی ہے۔لیاقت بلوچ نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی مشاورت کے ذریعے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں، تاکہ قومی اور عوامی مسائل پر مؤثر آواز اٹھائی جاسکے۔
پیٹرولیم لیوی ختم اور آئی پی پیز سے متعلق مسائل حل کرنے کا مطالبہ
لیاقت بلوچ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کی جائے۔ انہوں نے بجلی کے شعبے میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) سے متعلق مسائل کے فوری حل پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگائی اور بجلی کے بھاری اخراجات سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ عام شہریوں پر معاشی دباؤ کم ہوسکے۔لیاقت بلوچ کے مطابق بلوچستان کے مسائل کے حل، آئینی اصولوں کی پاسداری اور عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔