بھارتی جارحیت پر پاکستانی شوبز شخصیات کا شدید ردعمل، پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی

بھارتی جارحیت پر پاکستانی شوبز شخصیات کا شدید ردعمل، پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی

اسلام آباد/لاہور: بھارتی جنگی جنون اور پاکستان پر بلا ثبوت الزامات کے بعد نامور پاکستانی شوبز شخصیات نے کھل کر بھارت کی جارحیت کی مذمت کی ہے اور اپنے وطن کے دفاع میں آواز بلند کی ہے۔

 فنکاروں نے پاک افواج کی جوابی کارروائی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔

پس منظر:
بھارت کی جانب سے ایک بار پھر بغیر کسی ثبوت کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا، جس کے بعد گزشتہ رات کئی پاکستانی شہروں پر بھارتی فورسز نے بزدلانہ فضائی حملے کیے۔ اس کے جواب میں پاک افواج نے نہایت جرأت مندی کے ساتھ کئی بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

فنکاروں کا ردعمل:
پاکستان کے صفِ اول کے فنکاروں نے اس صورتِ حال پر اپنے جذبات سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائے:ماہرہ خان نے بھارتی کارروائی کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا:"رات کی تاریکی میں حملہ کر کے تم اسے جیت کہتے ہو؟ شرم آنی چاہیے!"بلال عباس خان نے بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ:"اب پاکستانی نوجوان فنکار بھی سچ کے لیے آواز بلند کریں گے۔"
منیب بٹ نے کہا:
"پاکستان پُرامن ملک ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب بھی دشمن کی زبان میں دیا جائے گا۔"فواد خان اور ہانیہ عامر نے کشیدگی کے خاتمے اور افہام و تفہیم پر زور دیا، مگر ساتھ ہی قومی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا پیغام بھی دیا۔
عروہ حسین نے اپنی اسٹوری میں لکھا:
"ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم امن چاہتے ہیں، مگر دفاع میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"
دیگر فنکاروں کی شمولیت:
اداکار اسامہ خان، یاسر حسین، حنا الطاف، سبینا فاروق، حبا قادر، درفشاں، سلیم شیخ، منشا پاشا، عائزہ خان، کومل میر، حرا مانی، ثنا جاوید، محب مرزا، مریم نفیس اور ایمن سلیم سمیت درجنوں فنکاروں نے بھارت کے جنگی جنون پر سخت تنقید کرتے ہوئے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

عوام کا ردعمل:
پاکستانی عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے فنکاروں کے حب الوطنی پر مبنی بیانات کو خوب سراہا اور کہا کہ یہ وقت ہے کہ تمام طبقات قومی مفاد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں۔

نتیجہ:
فنکاروں کی جانب سے یہ ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ قومی سلامتی اور خودمختاری کے معاملے پر پاکستان کی فنکار برادری بھی اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔