محمد رضا اویسی
کسی ملک کے اعلیٰ انتظامی اور قانونی ادارے دراصل ریاست کے وقار، قابلیت اور انصاف کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ جب انہی اداروں میں ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کی تعلیمی اسناد پر سوالات اٹھنے لگیں، جعلی ڈگریوں کی باتیں منظرعام پر آئیں یا بغیر ٹھوس ثبوت کے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جائیں تو نقصان صرف متعلقہ شخص کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور ملک کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا باعث بنتی ہے۔ وکیل اگر عدالت میں قانون کی تشریح اور شہریوں کے حقوق کا محافظ ہے، افسر اگر ریاستی نظام چلانے کا ذمہ دار ہے اور کسی اعلیٰ منصب پر فائز شخص میرٹ و اہلیت کی علامت سمجھا جاتا ہے تو اس کی سند اور کردار دونوں پر سوال ریاستی اعتماد کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔
جعلی ڈگری یقیناً ایک سنگین جرم اور قومی بدنامی کا سبب ہے، لیکن کسی ایسے شخص پر جعلی ڈگری کا الزام عائد کرنا جس کے خلاف قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہ ہوں، وہ بھی کم نقصان دہ نہیں۔ الزام اگر درست ثابت ہو تو تعلیمی نظام، پیشہ ورانہ میرٹ اور ریاستی اداروں کی نگرانی پر سوال اٹھتا ہے، اور اگر الزام بے بنیاد ثابت ہو تو الزام لگانے والے کی غیر ذمہ داری، سیاسی یا ذاتی مفاد اور کردار کشی کی روشنی میں پورا معاشرہ سوالات کی زد میں آتا ہے۔ یوں دونوں صورتوں میں نقصان صرف افراد کا نہیں، اداروں اور ملک کا ہوتا ہے۔
اسی لیے ڈگریوں کی حقیقت جانچنے کا راستہ سیاسی بیانات، انتخابی معرکوں، پریس کانفرنسوں یا ذاتی محاذ آرائی کے بجائے متعلقہ یونیورسٹیوں، بار کونسلز، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر مجاز اداروں کے اصل ریکارڈ سے ہو۔ قانون کے محافظ اگر خود قانون اور ثبوت کے اصول کو نظرانداز کریں گے تو عام شہری کس سے انصاف کی امید رکھے گا؟ موجودہ تنازع اسی بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لاتا ہے کہ اعلیٰ اداروں میں جعلی اسناد کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بے بنیاد الزام تراشی کا سدباب بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ ریاست کی عزت صرف اہل لوگوں سے نہیں بلکہ سچ، ثبوت، قانون اور ذمہ دارانہ رویے سے قائم رہتی ہے۔
سپریم کورٹ بار انتخابات: احسن بھون اور کیپٹن (ر) صفدر تنازع، ڈگریوں کی تصدیق اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لیے لمحہ فکریہ
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے تناظر میں سینئر وکیل رہنما محمد احسن بھون اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع اب محض بار سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ وکلا کی تعلیمی اسناد، پیشہ ورانہ انرولمنٹ اور ان کی تصدیق کے معاملے تک پہنچ چکا ہے۔
اس تنازع کا ایک اہم پہلو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدارتی انتخاب میں امیدوار سید امجد علی شاہ کی امیدوار ی ہے۔ کیپٹن (ر) محمد صفدر نے امجد شاہ کی ڈگری سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے ان کی امیدوار ی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب امجد شاہ اور ان کی حمایت کرنے والے حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ الزامات ثابت شدہ حقائق نہیں اور ڈگری کی جانچ کے لیے متعلقہ قانونی و ادارہ جاتی فورم سے رجوع کیا جانا چاہیے۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق امجد شاہ کی ڈگری سے متعلق سوالات ماضی میں بھی قانونی فورم پر اٹھائے جا چکے ہیں، تاہم موجودہ انتخابی تنازع میں ان الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ ریکارڈ اور مجاز فورم کے فیصلے سے ہی طے ہو سکتی ہے۔
اسی دوران کیپٹن (ر) محمد صفدر نے محمد احسن بھون کی ایل ایل بی ڈگری پر بھی سوالات اٹھائے اور وکلا کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو لوگ عدالتوں میں عوام کے حقوق اور مستقبل سے متعلق معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں، ان کی تعلیمی اسناد کی شفاف تصدیق ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر متعلقہ وکلا اپنی اسناد پیش کرکے انہیں درست ثابت کر دیں تو وہ معذرت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری طرف محمد احسن بھون نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کو 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجا ہے، جس میں غیر مشروط معافی اور مبینہ الزامات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
احسن بھون کے قانونی نوٹس کے مطابق انہوں نے مارچ 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے رول نمبر 828 کے تحت ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ نوٹس میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے 21 جنوری 2026 کو پاکستان بار کونسل کے انتخابی عمل کے دوران ان کے تعلیمی ریکارڈ کی جانچ کرکے اسے ''Verified'' قرار دیا تھا۔ اسی نوٹس میں ان کے 1989 میں لوئر کورٹس، 1992 میں ہائی کورٹ اور 2003 میں سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر انرولمنٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ میڈیا میں کون کس پر الزام لگا رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی، ہائر ایجوکیشن کمیشن، متعلقہ بار کونسلز اور دیگر مجاز اداروں کے اصل ریکارڈ کیا کہتے ہیں؟
اگر کسی وکیل کی ڈگری یا پیشہ ورانہ اہلیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو اس کا فیصلہ پریس کانفرنس، سیاسی بیان یا انتخابی گروپ بندی سے نہیں بلکہ اصل تعلیمی ریکارڈ، یونیورسٹی کی تصدیق، بار کونسل کے انرولمنٹ ریکارڈ اور مجاز قانونی فورم کے فیصلے سے ہونا چاہیے۔
اسی اصول کا اطلاق ہر فریق پر یکساں ہونا چاہیے۔ الزام لگانے والے کو بھی اپنے دعوے کے شواہد پیش کرنے چاہئیں اور جس پر الزام عائد کیا گیا ہے اسے بھی متعلقہ اداروں کے ذریعے اپنی اسناد کی تصدیق کا حق حاصل ہے۔
سب سے اہم بات الزام اور ثابت شدہ حقیقت کے درمیان فرق برقرار رکھنا ہے۔ دستیاب رپورٹنگ کی بنیاد پر محمد احسن بھون کی ڈگری کو جعلی قرار دینے والا کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا؛ اس کے برعکس ان کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کی 21 جنوری 2026 کی تصدیق کا حوالہ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے مزید جانچ اور ادارہ جاتی تصدیق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بار سیاست میں اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، لیکن وکلا کی تعلیمی اسناد جیسے حساس معاملات کو ذاتی یا سیاسی کشمکش سے بالاتر رکھنا ضروری ہے۔ اگر واقعی کسی ڈگری پر سوال ہے تو متعلقہ اداروں سے اس کی شفاف اور قابلِ تصدیق جانچ کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور کسی کی عزت و ساکھ بھی بلاجواز متاثر نہ ہو۔
مسلم لیگ (ن) کے دونوں سینئر رہنماؤں سے بھی یہ توقع کی جانی چاہیے کہ باہمی اختلافات کو ایسے انداز میں آگے نہ بڑھنے دیں جس سے پارٹی کی مجموعی ساکھ متاثر ہو۔ اعلیٰ قیادت کو چاہیے کہ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں کے درمیان افہام و تفہیم کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اس تنازع کو ذاتی الزامات کے بجائے شواہد، ادارہ جاتی تصدیق اور قانون کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کرے۔