جو ممالک سب سے زیادہ کاربن اخراج کے لیے ذمہ دار، وہی گرین فنانس کا زیادہ تر حصہ لے جا رہے ہیں
پاکستان میں گرین جابز پیدا کرنا ہوں گی، سندھ کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا، ہمیں ان مسائل کو ختم کرنا ہوگا
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی وزیر برائے موسمیات اور ماحولیات مصدق ملک نے عالمی سطح پر آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے شدید متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے وہ ممالک جو سب سے زیادہ کاربن اخراج کے لیے ذمہ دار ہیں، وہی ممالک گرین فنانس کا زیادہ تر حصہ لے جا رہے ہیں، جو نا انصافی ہے۔قدرتی آفات کے خطرے میں کمی لانے کے موضوع پر منعقدہ پاکستان کے دوسرے ایکسپو کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر موسمیات اور ماحولیات مصدق ملک نے کہا پاکستان میں گرمی بڑھتی جا رہی ہے، گلاف (برفانی جھیل میں آنے والے سیلاب )کے واقعات کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے،قدرتی آفات آتی ہیں لیکن ہم تیار نہیں ہوتے۔انھوں نے اپیل کی ہے کہ آفات سے لوگوں کی اموات کے بارے میں سوچیں، سندھ کا بڑا حصہ سیلاب میں بہہ گیا، ہمیں ان سب مسائل کو ختم کرنا ہوگا۔ مصدق ملک نے کہا دنیا میں صرف 2 ممالک 45 فی صد کاربن کا اخراج کرتے ہیں، 1ملک تمام ماحولیاتی معاہدوں سے نکل گیا ہے اور یہ ملک دنیا میں اپنی اجارہ داری بنا کر بیٹھا ہے، یہ جتنی بھی آلودگی پھیلا لیں کوئی ان سے نہ پوچھے، جب کہ دنیا کے دیگر 10 ممالک 75 فی صد کاربن کا اخراج کرتے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس ساری صورت حال میں انصاف کا فقدان نظر آتا ہے، یہ وہی 10ممالک ہیں جو 85فی صد گرین فنانس لے جاتے ہیں، اس سب میں افریقی جنوبی ایشیائی ممالک کہاں ہیں؟ پاکستان گلوبل ویلیج میں نظر نہیں آتا۔انھوں نے کہا چین دنیا کی 70فی صد سولر ٹیکنالوجی بیچتا ہے، فن لینڈ نے جنگلات بچانے کے لیے اقدامات کیے، ایسے میں دنیا بھر کے لیے گرین پاکستان کے دروازے کھلے ہیں، ہمیں بھی پاکستان میں گرین جابز پیدا کرنا ہوں گی۔