اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف رہنما اعجاز چودھری کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے ضمانت بطور سزا روکی نہیں جاسکتی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اندراج مقدمہ اور سپلیمنٹری بیان میں تاخیر کی وضاحت نہیں دی گئی، سازش کا الزام استغاثہ نے ٹرائل میں ثابت کرنا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اعجاز چوہدری کو بارہ مئی ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا تھا، دس جون کو سوشل میڈیا مواد پر اعجاز چوہدری کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، ضمانت بطور سزا روکی نہیں جا سکتی۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کیا جاتا ہے