مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستیں سماعت کیلئے منظور،آج سماعت جسٹس عائشہ ملک ‘ جسٹس عقیل عباسی کا اختلاف

 فیصلے پر عملدرآمد کئے بغیر آپ نظر ثانی کیسے فائل کر سکتے ہیں؟جسٹس عائشہ ملک ‘  فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست بھی ہے: جسٹس عقیل عباسی 

 کیس کو چھوڑیں، یہ آپ سپریم کورٹ کو کہاں لے جا رہے ہیں؟ کل کسی کو پھانسی کی سزا دیں، تو کیا وہ کہے گا بس سر تک پھندا ڈال کر چھوڑ دیا؟جسٹس جمال مندو خیل 

اسلام آباد ( آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔جبکہ بینچ کے ارکان جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے اختلاف کرتے ہوئے نظر ثانی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مستردکردیے،11 ججز نے اکثریت سے فریقین کو نوٹس جاری کیے، عدالت نے کیس کی سماعت آج بدھ  تک ملتوی کردی،جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت کی درخواست بھی اس کیس کے ساتھ ہی سنی جائے گی۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ فیصلے پر عملدرآمد کیے بغیر آپ نظر ثانی کیسے فائل کر سکتے ہیں؟ جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست بھی ہے۔جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ کیس کو چھوڑیں، یہ آپ سپریم کورٹ کو کہاں لے جا رہے ہیں؟ کل کسی کو پھانسی کی سزا دیں، تو کیا وہ کہے گا بس سر تک پھندا ڈال کر چھوڑ دیا؟۔سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی پرمشتمل  13 رکنی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی سماعت کے آغاز پر مسلم لیگ ن کے وکیل حارث عظمت روسٹرم پر آئے اور مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص نشستیں ایک ایسی جماعت کو دی گئیں، جو کیس میں فریق نہیں تھی۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اس نکتے کا جواب فیصلے میں دیا جا چکا ہے، آپ کی نظرثانی کی بنیاد کیا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ کا پورے فیصلے سے اختلاف ہے یا پھر اکثریتی فیصلے سے؟وکیل حارث عظمت نے کہا کہ ہمارا اختلاف اکثریتی ججز سے ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی نشستیں دینے کی استدعا ٹیکنیکلی مسترد کی تھی۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے نظرثانی کا اسکوپ محدود ہے، اس پر دوبارہ دلائل نہیں دے سکتے۔