پاکستان کی فیشن ڈیزائنر اور کاروباری شخصیت ماریہ بی نے خود کو خواجہ سرا قرار دینے والے سماجی رہنما ڈاکٹر مہرب معز کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی دھمکی دے دی۔
مہرب معز اعوان نے الزام لگایا تھا کہ ماریہ بی کے شوہر ان سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے اور مبینہ طور پر ڈیٹنگ ایپ پر انہیں پیغامات بھیج کر ملاقات کی پیشکش کرتے تھے۔اس معاملے پر ماریہ بی نے کہا:"معیز ڈارلنگ، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ سوشل میڈیا پر جعلی ایڈیٹس پوسٹ کرنا جرم ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ آپ اس بات سے واقف ہیں، مگر اس شخص سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے جس نے ماضی میں خود اپنے بارے میں بھی جھوٹ بولا ہو۔"انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ اب صرف آپ اور میرے درمیان نہیں رہا کیونکہ اب ان الزامات نے میرے خاندان پر حملہ کیا ہے۔ ماریہ بی نے الزام لگایا کہ دوسروں کی کردار کشی کرنا یا کیچڑ اچھالنا نام نہاد دیسی لبرلز کا پرانا طریقہ ہے تاکہ وہ اپنے مقصد سے توجہ ہٹا سکیں، تاہم اب وہ خاموش نہیں رہیں گی۔
ماریہ بی نے اعلان کیا کہ وہ مہرب معز اعوان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور ان اشاعتوں کے خلاف بھی مقدمہ دائر کریں گی جنہوں نے بغیر تصدیق کے یہ خبر شائع کی۔سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت ماریہ بی کی حمایت میں ہے اور ان سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ ایل جی بی ٹی کیو ایجنڈے کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا جاری رکھیں۔ بعض صارفین نے ماریہ بی کے پرانے پوڈکاسٹس کا بھی حوالہ دیا جن میں مہرب معز اعوان ایک حیاتیاتی مرد ہونے کے باوجود مردوں سے ڈیٹنگ کو سراہتے دکھائی دیتے تھے اور بعد میں انہوں نے خود کو ٹرانس جینڈر قرار دے دیا۔