مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس‘پی ڈی ایم اے کی ری سٹرکچرنگ اور 8 نئے ونگ بنانے کا فیصلہ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر، ریجنل ڈیزاسٹر اور ویئر ہاؤس قائم کرنے کی منظوری
آبی گزرگاہوں میں قائم غیر قانونی تعمیرات سیلاب سے گرنے کی صورت میں امداد نہ دینے کا فیصلہ ، ریسکیو 1122کوفلڈ آپریشن کیلئے جدیدآلات مہیا کرنے کی منظوری دی گئی
لاہور (سپیشل رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں تین ماہ کے اندر فلڈ زون خالی کر انے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت پوسٹ فلڈ انتظامات کیلئے خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ محکموںنے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دریا کی گزرگاہوں میں تعمیرات بنانے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی کوبنانے کا حکم دیا۔ اجلاس میں آبی گزرگاہوں میں قائم غیر قانونی تعمیرات سیلاب سے گرنے کی صورت میں امداد نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آبی گزرگاہوں میں غیر قانونی تعمیرات کے سدباب کے لئے مستقل مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فلڈ زون میں تعمیرات بنانے پر پابندی کیلئے سپریم کورٹ بھی فیصلہ دے چکی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چنیوٹ میں بند بنانے کے لئے فیزیبلٹی رپورٹ مکمل ہونے پرچنیوٹ میں بند بنانے کی اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ان فلیٹ ایبل ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں پنجاب میں 17 مقامات پر منی ڈیم بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر کالا باغ اور سد ھنائی کے مقامات پر آبی ذخائرکی استعداد بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پی ڈی ایم اے کی ری سٹرکچرنگ اور 8 نئے ونگ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر، ریجنل ڈیزاسٹر اور ویئر ہاؤس قائم کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ نے ریسکیو 1122کوفلڈ آپریشن کے لئے جدید ترین آلات مہیا کرنے کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں 10 لینڈنگ کرافٹ / بیڑے، بوٹ کیئریر ٹرک، نیوگیشن اور کمیونیکیشن کے جدید آلات، فلائنگ لائف بوائے جیکٹ اور دیگر آلات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 5 دریاؤں پرفلڈ کے حوالے سے 1990 ہائی رسک زون، 1278 میڈیم رسک زون،3169 لو رسک زون ہیں۔ پنجاب میں آبپاشی کے 183 پراجیکٹ جاری، 298 ڈرین /سیلابی نالے اور 67 ڈرینج سسٹم کی ڈی سیلٹنگ کی جائے گی۔