گلبرگ :پارک اجڑ گئے

کینال پارک نظرانداز، بیشتر مقامات پر گھاس مکمل طور پر غائب، نرسری گرا ئونڈ میں واکنگ اور جوگنگ ٹریک بھی بدحالی کا شکار
لاہور ( کرائم رپورٹر )پی ایچ اے نے شہر کو خوبصورت بنانے کے لیے تمام تر توجہ مرکزی شاہراہوں پر مرکوز کر لی جبکہ شہریوں کو صحت مند تفریحی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے پارکس عدم توجہی اور بدانتظامی کا شکار ہو گئے۔ گلبرگ کے مختلف بلاکس میں واقع پارکس کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ پی ایچ اے کے کروڑوں روپے کے فنڈز صرف مرکزی شاہراہوں کی تزئین و آرائش پر خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ گلی محلوں میں واقع پارکس کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں جہاں بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، وہیں گلی محلوں میں موجود پارکس زبوں حالی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پی ایچ اے کی مبینہ غفلت اور ناقص حکمت عملی کے باعث شہری تفریحی سہولیات سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔گلبرگ ٹو میں واقع نرسری گرا ئونڈ اور کینال پارک کی حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی دیکھ بھال عرصہ دراز سے نہیں کی گئی۔ بیشتر مقامات پر گھاس مکمل طور پر غائب ہو چکی ہے اور جہاں کہیں گھاس موجود ہے، اسے کاٹنے تک کی زحمت نہیں کی گئی۔نرسری گرا ئونڈ میں واکنگ اور جوگنگ ٹریک بھی بدحالی کا شکار ہے، جس کی سطح جگہ جگہ سے خراب ہو چکی ہے، جس کے باعث شہریوں کو چلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نرسری گرا ئونڈ میں واسا کے ٹیوب ویل سے مسلسل پانی کا اخراج بھی پارک کو مزید خراب کر رہا ہے، جس کی وجہ سے زمین دلدلی ہو چکی ہے اور یہاں پر کیچڑ کے باعث چلنا دشوار ہو گیا ہے۔بچوں کے جھولے اور سلائیڈز بھی ناقص دیکھ بھال کے باعث اپنی مدت پوری کر چکے ہیں۔ کئی سلائیڈز زنگ آلود ہو چکی ہیں اور کچھ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جو کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتی ہیں۔اسی طرح پارک کی با ئونڈری وال اور جنگلہ بھی جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا ہے، جس سے سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔نرسری گرا ئونڈ میں سب سے تشویشناک صورتحال پارک میں موجود کھلے مین ہولز ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں کے لیے یہ کھلے گٹر خطرے کی گھنٹی ہیں، لیکن انتظامیہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی۔