اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا اجلاس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں آج (7 مارچ 2025) ہو رہا ہے۔
اس اجلاس کو ایران کی درخواست پر بلایا گیا ہے، جس میں فلسطین کے غزہ علاقے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف بات چیت کی جائے گی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس اجلاس کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موقع مسلم دنیا کے لیے اہم ہے کیونکہ اس میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے خطرے کے حوالے سے ایک مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، اور اجلاس میں امریکی اور اسرائیلی سازشوں کے خلاف مزید سخت موقف اپنانے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں عرب ممالک کے ایک اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53 بلین ڈالرز کے منصوبے کی پیشکش کی گئی تھی، جس کا مقصد غزہ کے علاقے کو دوبارہ آباد کرنا اور وہاں کے فلسطینی عوام کے لیے بہتر زندگی کی فراہمی ہے۔او آئی سی وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ، اسرائیلی قبضے کے خلاف اقدامات اور امریکی منصوبوں کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کرنے کے لیے اہم موقع ہے۔