پاکستان میں افغانستان سے درآمد غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے نئے ثبوت سامنے آگئے

پاکستان میں افغانستان سے درآمد غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے نئے ثبوت سامنے آگئے

پاکستان کی سرزمین پر افغان سرزمین سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے شواہد ایک مرتبہ پھر سامنے آئے ہیں، جس سے دہشت گردوں کے عالمی اسلحے کے نیٹ ورک اور خطے میں سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

 پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، اور حالیہ دنوں میں افغان سرحد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔دہشت گردی کے یہ واقعات افغان سرزمین سے دہشت گردوں کی دراندازی اور پاکستان میں حملے کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جن میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس دوران دہشت گردوں کے پاس جدید ہتھیار اور اسلحہ دیکھا گیا ہے، جن کا زیادہ تر حصہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے دوران حاصل کیا گیا تھا۔پاکستان میں مختلف آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز نے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور ان سے غیر ملکی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا، جن میں M4 کاربائن، اسنائپر رائفلز، گرانیمڈز اور دیگر اسلحہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں ہتھیاروں کی بڑی مقدار بھی پکڑی گئی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان سے آنے والے اسلحے کا استعمال پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق، امریکی فوج نے افغان فوج کو 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے تھے، جن میں 300,000 ہتھیار انخلاء کے دوران باقی رہ گئے۔ اس ہتھیاروں کے ذخیرے کا دہشت گردوں کے ہاتھوں میں آنا اور ان کا استعمال، افغانستان کے عبوری حکومتی دعوں کی تضاد کو واضح کرتا ہے۔

 یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ افغان عبوری حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی جیسے گروپوں کو اسلحہ فراہم کر رہی ہے بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستے بھی فراہم کر رہی ہے۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ان دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر مختلف آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا اور ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں غیر ملکی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کو افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کی حمایت کا سامنا ہے، جو خطے میں دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہا ہے۔یہ تمام شواہد افغان عبوری حکومت کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔