اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں علیمہ خان کے خلاف کیس کی سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی، جبکہ صفائی گواہ سے متعلق پراسیکیوشن کی اعتراضی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے گئے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے مقدمے کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت علیمہ خان کی جانب سے فتح اللہ کو بطور صفائی گواہ پیش کیا گیا، تاہم سرکاری وکیل نے اس گواہ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے عدالت میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی۔پراسیکیوشن کا مؤقف تھا کہ صفائی گواہ کو ریکارڈ پر لانے سے متعلق قانونی نکات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے، اس لیے عدالت پہلے اعتراضی درخواست پر فیصلہ کرے۔عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے علیمہ خان اور ان کے وکیلِ صفائی کو نوٹس جاری کر دیے اور دونوں فریقین کو آئندہ سماعت پر اپنے مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ وہ 9 جولائی کو صفائی گواہ سے متعلق اعتراضی درخواست پر اپنے دلائل پیش کریں، جس کے بعد عدالت اس معاملے پر فیصلہ کرے گی اور مقدمے کی مزید کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔واضح رہے کہ یہ مقدمہ 26 نومبر کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات سے متعلق درج کیا گیا تھا، جس میں علیمہ خان سمیت دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات کے تحت کارروائی جاری ہے۔ عدالت آئندہ سماعت پر اعتراضی درخواست اور صفائی گواہ کے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد کیس کی مزید پیش رفت کا تعین کرے گی۔